Showing posts with label Profile. Show all posts
Showing posts with label Profile. Show all posts

Saturday, 14 November 2015

Profile of Yousuf Laghari Advocate

U should have written ur name and roll number

پروفائیل

حقوق کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے یوسف لغاری 
حقوق کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے یوسف لغاری 
پروفائل سعدیہ شمیم 

ساٹھ اور ستر کے عشرے نے سندھ میں ایسی نسل دی جو اہل نظر بھی تھی تو اہل فکر بھی۔ اس کی وجہ سندھ میں ون یونٹ اور ایوبی آمریت کے خلاف تحریک تھی۔ جس میں نوجوانوں نے یعنی طلباء نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ادیبوں، شاعروں، سیاستدانوں، ڈاکٹروں، وکلاء اور صحافیوں کے بڑے بڑے نام اسی دور کی پیداوار ہیں۔ یوسف لغاری بھی اسی کھیپ کا حصہ ہیں۔جو ستر سال کی عمر میں بھی ایکٹوسٹ ہیں۔
میرپورخاص کے چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے یوسف لغاری نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے اور پھر ضلع ہیڈکوارٹر میرپورخاص سے حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں سندھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 1967 میں جب کمشنر حیدرآباد مسرور احسن کے کہنے پر سندھ یونیورسٹی کے وائیس چانسلر حسن علی عبدالرحمان کا تبادلہ کیا گیا تو یونیورسٹی کے طلباء سراپا احتجاج ہوگئے۔ یہ یونیورسٹی کی خود مختاری میں نوکرشاہی کی مداخلت تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کمشنر مسروراحسن خود وائیس چانسلر بننا چاہتے تھے۔ 
10 نومبر 1964ء کو حیدرآباد اسٹوڈنٹس فیڈریشن بنانے کے لئے طلباء کنونشن منعقد ہوا۔ یوسف لغاری کنوینیئر اور جام ساقی جنرل سیکریٹری چن لیے گئے۔ یہ طلباء تنظیم بائیں بازو کے زیر اثر کام کر رہی تھی۔
چار مارچ کو سندھ یونیورسٹی کے طلباء نیو کیمپس جامشورو سے بسوں میں سوار ہو کر احتجاج کرنے کے لئے حیدرآباد شہر آرہے تھے۔ جیسے ہی طلبائکی بسیں اس مقام پر پہنچیں جہاں اب راجپوتانا ہسپتال قائم ہے، پولیس نے طلباء کی بسوں کو روک کر ان پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس برسائی۔ نتیجے میں درجنوں طلبہ زخمی ہوگئے اور سینکڑوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ یوسف لغاری اس احتجاج کی قیادت کرنے والوں میں سے تھے۔ اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’جب ہم جامشورو کے پاس پہنچے تو پولیس، فوج اور رینجرز کے اہلکاروں نے پل کی ناکہ بندی کردی اور لڑکوں کو بسوں سے اتار کر پکڑنا شروع کردیا، وہ انہیں مارتے رہے اور فائرنگ بھی کی جس سے بہت سارے لڑکے زخمی بھی ہوئے۔ کئی لڑکوں نے دریا میں چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی۔یہ طلباء تحریک بعد میں سندھ بھر میں پھیل گئی۔یہ وہی چار مارچ ہے جو سندھ میں ون یونٹ مخالف تحریک کے ابھار کا سبب بنی۔ یوسف لغاری طالب علمی کے دور تک طالب علم لیڈر رہے اور طلباء تحریک کی رہنمائی کرتے رہے۔طلباء تحریک میں یوسف لغاری کے دیگر قریبی ساتھیوں میں جا م ساقی ،یوسف تالپور، علی احمد بروہی، مسعود نورانی، شامل ہیں۔ 
بعد میں انہوں نے میرپورخاص میں وکالت شروع کی۔ اور چند ہی برسوں میں کامیاب اور بڑے وکیل کے طور پر ابھرے۔ 
وہ نظریات اور فکر میں سندھ دوست اور عوام دوست رہے۔ کیونکہ طالب علمی کے دور میں ان کی ترقی پسند رہنماؤں سے قربت رہی۔ ضیاء الحق کے مارشل لاء دور میں جب مخلتف سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں پر خصوصی فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے تو یوسف لغاری واحد وکیل تھے کو ان کی پیروی کرنے کے لئے پہنچتے تھے۔ انہوں نے مارشل لا دور کے مشہور مقدمات جام ساقی کیس، ہائیجیکنگ کیس، ایاز سموں کیس وغیرہ کی پیروی کی۔ انہوں نے گھانگھرا موری کیس، ٹنڈو بہاول کیس کے مقدمات کی بھی پیروی کی۔
یوسف لغاری پاکستان بار کونسل کے وائیس چیئرمین بھی رہے۔ 
سابق ایڈوکیٹ جنرل سندھ یوسف لغاری کا ہاریوں کے بارے میں اس طرح کا موقف رہا ہے۔ انہوں نے حٰدرآباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ستتر ہزار ہاریوں کے گاؤں رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں، انہیں رجسٹرڈ کیا جائے اور لیبر کورٹ کی طرح عدالتیں قائم کر کے ہاریوں کو انڈسٹریل ایکٹ کے حقوق دیئے جائیں۔سیمینار میں یہ بھی زیر بحث آیا کہ وقت کے ساتھ سندھ میں ٹیننسی ایکٹ کی افادیت کم ہو گئی ہے، جس میں ترمیم کی ضرورت ہے، جس سے ہاریوں اور آبادگاروں کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔
تارکین وطن کی صورتحال کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بیرون ملک ہیں مقامی پاکستانی کمیونٹی کو تقسیم کردیا ہے وقت کی یہ اہم ضرورت ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے تاکہ کمیونٹی کو اپنے مسائل حل کرنے کے لئے مشترکہ پلیٹ فارم مہیا ہو، تارکین اصلاح معاشرہ کیلئے اقتصادی معاشی سیاسی اور سماجی انقلاب بپا کریں۔ 
غاری سندھی اخبارات میں کالم بھی لکھتے رہے۔ نوے کے عشرے میں انہیں آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی کی جانب سے بہترین کالم نگار کا ایوارڈ ملا۔لہٰذا وہ اچھے وکیل ہی نہیں اچھے کالم نگار بھی ہیں۔ اپنی تحریروں میں عوامی دانش کے ذریعے موجودہ حالات کی تشریح کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔بعد میں ان کے کالموں کا مجموعہ کتابی شکل میں بھی شایع ہوا۔ چار مارچ پر ان کے تفصیلی انٹرویو اور مضامین بھی شایع ہو چکے ہیں۔
بعد میں وہ میرپورخاص سے حیدرآباد منتقل ہوئے ، لیکن میرپورخاص میں وکالت کا دفتر جاری رکھا۔ پیپلزپارٹی جب 2008 کے انتخابات کے بعد حکومت میںآئی تو انہیں ایڈوکیٹ جنرل سندھ بنایا گیا۔ دسمبر 2010 میں انہوں نے صوبائی وزارت قانون سے اختلافات کے بعد ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے عہدے سے استعیفا دیدیا۔ وہ ڈھائی سال تک اس عہدے پرفائز رہے۔ 
انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کی پیروی کے دوران سپریم کورٹ کو چونکا دیا جب انہوں نے عدلات سے گزارش کی کہ قرارداد مقاصد کو آئین سے خارج کردیا جائے۔ انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ قرارداد 56 کے آئین میں دائیں بازو کے عناصر نے شا مل کروائی تھی جسے جنرل ضیا نے دورباہ آئین کا حصہ بنایا۔ سرکاری سطح پر یہ بہت ہی بولڈ موقف تھا۔ 
انہوں نے سندھ میں متبادل قیادت دینے کی بارہا کوششیں کیں۔ اسی ضمن میں انہوں نے متوسط طبقے اور اہل فکر و نظر حضرات کو سندھ ڈیموکریٹک گروپ کے نام پر جمع کیا۔ لیکن ان کی یہ
کوشش ادھوری رہی۔ انہوں نے دو مرتبہ الیکشن میں بھی حصہ لیا لیکن پزیرائی نہ مل سکی۔ 
یوسف لغاری انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے بانی ممبران میں سے ہیں۔
ا نہوں نے میرپورخاص میں لاء کالیج قائم کیا۔ جس کے ذریعے نچلے طبقے اور پسماندہ علاقے کے سینکڑوں لوگ وکالت کی ڈگری حاصل کر سکے۔ اور اپنے روزگار کے ساتھ حقوق کا دفاع کرنے لگے۔ 
سندھ کے سیاسی کارکنوں اور ادبی حلقوں میں ماما یوسف کے طور پر پہچان رکھنے والے طبیعت میں سادہ قصے، کہانیاں اور لطیفے سنانے کے بادشاہ یوسف لغاری بے باک شخص اور اچھے وکیل کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ 
دوستوں کے حلقوں میں ما ما یوسف کے طور پر پہچان رکھنے والے یوسف لغاری ایڈووکیٹ ابھی بھی اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں وہ کبھی عدلاتوں میں، کبھی اخبارات کے کالموں میں، کبھی ٹاک شو میں یا پھر کبھی مختلف سیاسی پروگراموں نظر آتے ہیں اور اسی انداز اور لہجے میں بات کرتے ہیں جو جوانی میں تھا۔
Practical work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi 

Wednesday, 4 November 2015

ڊاڪٽر ولي محمد عباسي


فريال عباسي
رول نمبر: 
2k14/MC/119 
چوندا آھن  موتي تہ هزار پر ڪوئينور جهڙو موتي قسمت سان هي ملي ايئن ئي ڊاڪٽر ولي محمد جنهن پنهنجي سموري زندگي غريب هاري ۽ شاگرن جي مدد ڪئي ۽ سچائي جو ساٿ ڏنائي.
پنهنجي ننڊڙي شھر دڙي ۾ مڇي ماني واري فيملي سان تعلق رکندڙ پنهنجي ڪلاس ۾ ۽ اڳتي هلي پوري ضلعي جي اسڪولن ۾ ٽاپ تي رهندڙ ٻارڙي کي پنهنجي گڏيل خاندان واري گهر مان اخبار ادب ۽ تاريخ پرهڻ لا۽ ماحول ۽ حوصلو بہ مليو سندس وڏو ڏاڏو مرحوم حاجي ولي محمد عباسي مذھبي گهراڻي جو فرند هوندي بہ سندس پنھنجي وڏي پٽ نوراحمد عباسي کي انگريزن جي دور ۾ پڙهڻ جي لا۽ بمبئي يونيورسٽي موڪليو ۽ گريجوئٽ بڻايو ۽ هو شايد هندن توڙي مسالمانن مان دڙي شھر جو پهريون  گريجوئٽ ھو


 جڏھن واپار ۽ تعليم هندن ۾ زياده هوندي هئي ۽ سندس ننڊي چاچي غلام مصطفيٰ عباسي پهريون ماڻهو هو جنهن دڙي شھر ۾ ھڪ لائبرري کولي جنهن ۾ مذھبي ، انگريزي ، تاريخي ڪتاب بہ پڻ شامل هئا ، جنهن جي ڪري ڊاڪٽر ولي محمد  کي گهر ۾ پيل ڪتابن مان پڻ گهڻو فائدو مليو ۽ بيسٽ ريڊر جو ايوارڊ پڻ حاصل ڪيائين جيڪو ها۽ اسڪول جي ريڪارڊ ۾ اڄ بہ موجود آھي . سندس ڪتابن جو مطالعو ۽ سندس وڏن خاص ڪري نوراحمد عباسي وڏھرڪي ۽ ڊڪٽرشپ خلاف جهدوجهد ڪئي ۽ انهن مان اٿسه (انسپاريشن) وٺڻ سبب هن ها۽ اسڪول جي زماني کان ئي ٺٽي ضلعي خصوصي طور بٺوري تعلقي ۾ انتهائي سرگرم ٿيو ۽ معيار جي لحاظ کان شاندار تنظيم عوامي تحريڪ ۾ شامل ٿي مظلوم عوام لا۽ شاگرد ۽ ھاري محاظ تي سرگرم رهيو.
ڊاڪٽري پڙھڻ دوران شاگرد محاظ تي انتهائي ذميواري سان ڪم ڪيو ۽ سمورو عرصو  (ايس.ايس.ٽي) جي مختلف مرڪزي عهدن کي نڀائيندي سڄي سنڌ ۾ سرگرم رهيو 1983 واري (ايم.آر.ڊي)  تحريڪ ۾ گرفتاري پيش ڪيائين ۽ ھڪ مهينو نارا جيل ۾ شھيد فاضل راهو ۽ ٻين سياسي قيدين سان گڏ رهيو (ايم.آر.ڊي ) تحريڪ جي شروعات ۾ ئي کيس ٻين ڪجھ ساٿين سان گڏ فوجي ڪورٽ ھڪ سال قيد سزا ڏني جيڪا نارا ۽ سکر جيلن ۾ ڪاٽي پوري ڪئي جيلن ۾ سنڌ جي شھيد سياسي رهنمائن سان سنس ڪچهريون بحث مباحثا رهيا .


پاڻ جيلن ۾ عوامي تحريڪ جي ڪارڪن جي تعليمي شعبي اسٽڊي سرڪل جي انچارج طور مثالي ڪم ڪيا ۽ کيس ساٿين ۾ وڏي اعزت  ۽ مڃتا ملي . عملي زندگي ۾ اچڻ کانپو۽ بہ سندس مطالعو ۽ علمي ترتيب ڏيڻ وارو سلسلو جاري رهندو اچي.
ساڻن جيلن ۾ گڏ رهندڙ  ( پ.پ) جا اڳواڻ   وڏيرا يا ڊاڪٽر اسمائل اڍيجو جهڙا مڊل ڪلاس ماڻهو جڏھن منسٽر ٿيا تڏهن بہ هو سيڙجي پنهنجي ذاتي ڪم يا مفاد ماڻڻ لا۽ ڪنهن سان ملڻ نہ ويا ۽ اڄ تائين پنهنجي ضمير تي داغ اچڻ نہ ڏنائين سندس علمي ، ادبي ۽ سياسي شاگرد تمام وڏي تعداد ۾ آھن ۽ اڄ تائين هو انهن لا۽ قابل فخر استاد ۽ اڳواڻ جو درجو رکي ٿو

This practical work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi    

Monday, 26 October 2015

Profile of Sohail Sangi by Simra


 سہیل سانگی ۔۔ پروفائیل سمرہ شیخ 

تعارفی پیرا: 
سہیل سانگی سنیئر صحافی، کمیونسٹ اور سندھ یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے تجربہ کار استاد ہیں۔ وہ ایک عشرے سے زائدعرصہ انگریزی روزنامہ ڈان سے وابستہ ہیں۔ بقول نامور محقق بدر ابڑو کے وہ سندھی صحافت کے سدا نوجوان کردار ہیں۔ 

 خاندانی پس منظر: 
 تھرپارکرکے گاﺅں جنجھی میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنی طبع میں ٹپیکل تھری ہیں۔ تھر کا بارشوں سے گہرا رشتہ ہے۔ ان دوست بتاتے ہیں کہ تھر میں بارش ہو یا قحط دونوں صورٹوں میں وہ پریشان ہو جاتے ہیںسہیل چاہے کہیں بھی ہوں رات کو اگر بارش ہو جائے تو انہیں نیند نہیں آتی۔ 

 تعلیمی سفر:
 اپنے آبائی گاﺅں جننجھی سے آٹھویں تک تعلیم حاصل کی۔ چونکہ تب ان کے گاﺅں میں ہائی اسکول نہیں ہوتا تھا اس لئے انہیں نویں اور دسویں جماعت پڑھنے کے لئے تحصیل ہیڈ کوارٹر چھاچھرو آنا پڑا۔ انہیں تعلیم حاصل کرنے کا بے حد شوق تھا۔ لیکن والدین کی غربت آڑے آئی۔ نتیجے میں تین بھائیوں میں سے صرف ایک یعنی سہیل صاحب کو ہائی اسکول چھاچھرو بھیجا گیا۔ اس بات نے ان پر گہرے اثرات چھوڑے اور ان کا ذہن تبدیلی لانے کی طرف سوچنے لگا۔ جس نے آگے چل کر ان کو کمیونسٹ بنا دیا۔

میٹرک کے بعد تھر میں قحط پڑا، وہاں نہ روزگار کے ذرائع تھے اور نہ مزید تعلیمی سہولیات۔ انہوں نے ایک رشتہ دار کی مدد سے حیدرآبا د جانے کی ٹھانی۔ حیدرآباد میں پارٹ ٹائیم جاب کرتے رہے تاور شام کو مسلم کالج ( تب یہ کالج صرف آرٹس کالج ہوا کرتا تھا) انٹر تک پڑھائی کی۔ یہ دور سندھ میں بھرپور سیاسی سرگرمیوں کا دور تھا۔ سندھ میں طلبہ تحریک چل رہی تھی۔ ون یونٹ کے خلاف اور ایوب خان کی آمریت کے خلاف عوامی ابھار تھا۔سہیل سانگی بھی اس تحریک کا حصہ بن گئے اور انہوں نے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی طلبہ تنظیم سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس میں شمولیت اختیار کی۔ 

 بی اے کرنے کے بعد انہوں نےسندھ یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا۔ 

بنگال (مشرقی پاکستان) میں فوجی آپریشن ) کے وقت ملک بھر میں خاص طور پر سندھ میں تقریبا ہو کا عالم تھا۔ سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں خاموش ہو گئی تھی۔ تب کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان جس کی سندھ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن ذیلی تنظیم تھی کو از سرنو منظم کرنے کا ٹاسک سہیل سانگی کو دیا۔ اور یوں وہ مشہور کامریڈ بن گئے۔ 

صحافت کا آغاز: اپنی طلبہ تنظیم کی خبریں اخبارات کو دیتے تھے اس وجہ سے ان کی صحافیوں اور صحافتی دنیا سے واقفیت ہوئی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ خبر بنانے کا فن بھی سیکھ لیا۔ طالب علمی کے زمانے میں ان کی تنظیم نے ایک ماہوار میگزین ” پرہ پھٹی“ نکالا۔ تو وہ اس کے ایڈیٹر بن گئے۔ یہ پرچہ ایک ڈیڑھ سال تک چلا، جس کے بعد بھٹو حکومت نے دوسے درجنوں سندھی جرائد کے ساتھ اس پر بھی پابندی عائد کردی۔ 
ایم اے کرنے کے بعد بھی وہ سیاسی سرگرمیوں میں شامل رہے۔ لیکن تب تک وہ تین بچوں کے ابپ بن چکے تھے۔ انہوں نے سرکاری ملازمت کرنے کی ٹھانی۔ محکمہ تعلیم میں کالیج لیکچرار کا کا انٹرویو دینے گئے۔ واپسی میں وہ اپنے دوست قاضی سلیم کے ساتھ ان کی گاڑی میں و ¿رہے تھ۔ دونوں دوست گپ شپ کرتے رہے۔ قاضی سلیم نے انہیںبتایا کہ وہ سندھی کا ایک بہت اچھا اخبار نکال رہے ہیں۔ اور انہیں کہا کہ اس اخبار میں انکا اہم کردار دینا چاہ رہے ہیں۔ دوسرے لمحے انہوں نے سپر ہائی وے پر سہیل سانگی کا ایم اے کا سرٹفکیٹ پھاڑ کے پھینک دیا۔ انہوں نے قاضی فیملی کا اخبار سندھ نیوز جوائن کیا۔ 

 1977 میں ضیاءالحق نے بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا لاگو کردیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں پابندی اخبارات پر سنسر شپ لاگو کردیا۔ جس کیو جہ سے نوزائیدہ اخبار سندھ نیوز سخت مالی بحران کا شکار ہو گیا۔ جولائی 1980میں اسکے مالکان نے اس کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ 

 اگلے ماہ سہیل سانگی کو مارشل لاء کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کرلای گیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ کمیونسٹ پارٹی کے لیڈروں کے ہمراہ ضیاءالحق کی مارشل لا ¾ حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں اشتراکی نظام (سوشلزم) لانا چاہتے تھے۔ ان پر خصوصی فوجی عدالت میں مقدمہ چلا گیا۔ یہ مقدمہ جو بعد میں جام ساقی کیس کے نام سے مشہور ہوا اس میں بینظیر بھٹو، ولی خان، غوث بخش بزنجو، معراج محمد خان اور دیگر چیدہ چیدہ سیاستدان اور دانشور بطور صفائی کے گواہان کے پیش ہوئے۔ اس مقدمے نے خود ایم آرڈی کی تحریک پر بھی گہرا اثر ڈالا۔

 مشہور دانشور اور ادیب بدر ابڑو جو اس مقدمے میں سہیل صاحب کے ساتھ تھے ان کا کہنا ہے کہ فوجی عدالت میں مقدمہ کس طرح سے لڑا جائے اس کی تمام حکمت عملی سہیل سانگی نے تیار کی تھی۔ اور وہ ہر سماعت پر تمام قاانونی پہلوﺅں کا مطالعہ کر کے آتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ سہیل نے فوجی عدلات کے سامنے دھیمے لہجے میں لیکن سخت باتیں کیں۔ 

سہیل سانگی پانچ سال تک جیل میں رہے۔ انہیں 1985 میں رہائی ملی۔ ان پانچ سال کے دوران ان کے اہل خانہ کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوئی۔ رہائی کے بعد انہوں نے از سرنو زندگی شروع کی۔ بطور صحافی کام کرنے لگے۔ 
 سگریٹ نوشی: 
وہ بتاتے ہیں کہ گیارہویں جماعت میں انہوں نے سگریٹ نوشی شروع کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب وہ حیدرآباد میں کالج میں پڑھ رہے تھے۔ وہ والدین سے دور تھے، کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا۔ آہستہ آہستہ عادت بن گئی۔ ابھی ایک سے ڈیڑھ پیکٹ سگریٹ پھونک دیتے ہیں۔ 
سفر اور سیاحت کا شوق: 
آپ کو سفر کا بہت شوق ہے۔ سندھ کا شاید ہی کوےءعلاقہ یا چھوٹا شہر ہو جو انہوں نے نہ دیکھا ہو اور جہاں ان کی جان پہچان نہ ہو۔ وہ برطانیہ، مالدیپ، بنگلا دیش اور ترکمنستان کا بھی سفر کر چکے ہیں۔ اب بھی چھٹیوں میں سندھ کے کسی نہ کسی علاقہ کو دوبارہ وزٹ کرتے رہتے ہیں۔ 
 سہیل سانگی نے صحافت میں کئی نئے تجربے کئے اورہمیشہ نیا پن دیا۔ انہوں نے ماحولیات، آثار قدیمہ، انسانی حقوق وغیرہ کو بھی خبر وں کا موضوع بنایا۔ جو اس سے پہلے خاص طور پر سندھی اور اردو صحافت میں خبر کے موضوع نہیں تھے۔ ان کی صحافت مزاحمتی صحافت کہلاتی ہے۔ اور انہیں مزاحمتی صحافت کا بانی مانا جاتا ہے۔ سندھی کے پہلے کمپیوٹرائزڈ اخبارروزنامہ عوامی آواز کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ ان کی ادارت میں عوامی آواز سندھی کا مقبول ترین اخبار مانا جاتا تھا۔ اس کے بعد انہوں ” ہفتہ روزہ آرسی“ کا اجراءکیا۔ یہ سندھی کا پہلا نیوز میگزین تھا۔ اور یہ پرچہ بہت مقبول رہا۔ 

اس سے پہلے انہوں نے حیدرآباد میں رہتے ہوئے علی حسن صاحب کے ساتھ مل کر ہفتہ روزہ منزل، ہفتہ روزہ بیداری، سچائی، اور روز نامہ سفیر ، روز نامہ عبرت، روز نامہ آفتاب، انگریزی اخبار” سندھ آبزرور“میں بھی کام کیا۔ روزنامہ سفیر اخبار کا تجربہ اس بنیاد پر کیا گیا تھا کہ حیدرآباد شہر کا پنا اخبار (سٹی) ہونا چاہئے۔ 

وہ بی بی سی اردو سروس ریڈیو اور آن لائن کے پینل پر بھی رہے۔ ڈان ڈاٹ کام ویب سائیٹ پر بلاگ اور سیاسی تجزیے لکھتے رہے۔ آج کل کے ٹی این کے اینکر پرسن ، اردو اخبار ”روزنامہ نئی بات“ اور سندھی اخبار ”روز نامہ کاوش“ کے نامور کالمسٹ ہیں۔

 آپ کے دوستوں کا کہنا ہے کہ ان کا صحافت میں بڑا کنٹری بیوشن یہ ہے کہ انہوں نے بڑی تعداد میں سیاسی کارکنوں کو صحافی بنایا جس کی وجہ سے سندھ صحافت کا رنگ بدل گیا۔ 

 سہیل سانگی ایک درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں اور مختلف موضوعات پرسینکڑوں کی تعداد میں مضامین، کالم، اداریے لکھے ہیں۔ 
 سہیل سانگی بہت ہی سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ ۔ فضول خرچی کا شوق نہیں۔ کھانے پینے کے معاملے میں بہت ”چوزی“ ہیں۔ گفتگو میں
 دھیمہ لہجہ اور سادہ الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔” خاصا “ لفظ تقریبا ان کا تکیہ کلام ہے۔ 

انکا ڈولپمنٹ سیکٹر میں بھی کنٹریبیوشن ہے۔ وہ بعض غیر سرکاری تنظیموں کے مشاورتی بورڈ پر رہے۔ انسانی حقوق، میڈیا اور لائیف اسکل کے ٹرینر بھی رہے ہیں۔
 مزاج میں بہت اچھے ہیں وہ جس سے بھی مخاطب ہوں اس سے اسی عمر کے ہو کر بات کرتے ہیں۔ ہنسی مذاق بھی بھرپور کرتے ہیں جب ہنستے ہیں تو پورے دانت نظر آتے ہیں۔ اور جب ڈانتتے ہیں تو غصے والی آنکھیں۔ وقت کے بہت پابند، ویسے تو بہت ہی Loving ہیں لیکن بہت ہی کم لوگوں کو پسند کرتے ہیں۔ 

کلاس میں اس طرح پڑھاتے ہیں کہ باتوں باتوں میں پڑھا دیتے ہیں۔ سیکھنے والے طلبہ پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ اور انہیں بھرپور طریقے سے سکھاتے ہیں اور مدد کرتے ہیں۔ سینئر اسٹوڈنٹس کا کہنا ہے کہ سر سانگی ” گوگل“ ہیں۔ جو پوچھے فٹافٹ جواب مل جاتا ہے۔ 

سہیل سانگی جیسے بظاہر خوش مزاج اور ہنس مکھ ہیں اندر سے اتنے خوش نہیں۔ ماضی میں مشکل وقت گزارا، ، ماضی کی یادیں، رفیق حیات کی بے وقت موت کا غم ۔۔ ( خیال رہے کہ انہوں نے پسند کی شادی کی تھی) ان چیزوں کی افسردگی اکثر ان کی آنکھوں اور چہرے پر نظر آتی ہے لیکن پھر بھی سہیل سانگی اپنی عمر گزارنے میں اور اپنی صحافی بننے پر خوب اچھی طرح اب تک بھی کام کرتے ہیں ۔ 

سندھی صحافت میں اختلاف رائے کا اظہار کے حامل مانے جاتے ہیں۔ حیدرآباد کے سینئر صحافی علی حسن کا کہنا ہے کہ وسائل پر لوگوں کے اختیار کے معاملے میں ایک مقصد کے تحت پہلے سیاسی کارکن کے طور پو اور بعد میں بطور صحافی اپنی جنگ جاری رکھی۔ اور ان کا قلم اور ان کی صحافت کبھی کسی کے تابع نہیں رہے۔ 

 پنچ لائن: 
 سانگی کے حالات زندگی سے ایک بات ہم سیکھ سکتے ہیں کہ جو بھی کام کرو اس پر اعتماد اور اطمینان کرنا ضروری ہے۔ محنت رنگ لاتی ہے ہاں کبھی دیر سویر ہو جاتی ہے۔

MC/93 SIMRA NASIR 

Wednesday, 7 October 2015

Sahib Chandio profile by Ayoob Rajpar

there are proof mistakes ايوب راڄپر, 


ٿورو صاحب وڌيڪ چانڊيو

ماڻهو جي زندگي هڪ اهڙو امتحان آهي جنهن جو ن پيپر ڏيڻو پوندو آ ن ڪا ڊگري حاصل ٿيندي آ جو حاصل ٿيندو آ اهو صرف نتيجو،ڪن جو نتيجو کين صاحب بڻائي ت ڪن کي غلام .ڪي تي وڃي ان منزل تي رسن جٿي کين انّا وڪوڙي وڃي ت ڪي وري اتي رهندي ب پنهنجي اندر جي هيڪڙائي ن ڇڏن .

صاحب خان چانڊيو انهن ماڻهون ما هڪ آهي جن پنهنجن اصولن کي پنهنجي زمير جي حلقن ۾ قيد ڪري رکيو آهي. هٿن  ۾ انصاف ء ايمانداري جا ڏيئا کڻي ندگي جي طوفاني هوائن مان گذري چڪا آهن .کين تجربو آٿن ت ڪيترو ڏکيو آهي هڪ ايماندار ماڻهو لاءِ هن بي ايمان دنيا ۾ زندگي گذارڻ . سندن قابليت جو اندازو ان ڳاله مان لڳائي سگهون ٿا ت جڏهنصدرِمملڪت ذياالحق صاحب 1978 ۾ قومي اسيمبلي کي خطاب ڪندي اهو بيان ڏيندي چيو ت” مان هڪ شخص کي هڪ اداري مان ڪڌڻ پ چاهيو نيٺ خبر پئي ت اهو هڪڙو هي ماڻهو آ سڄي اداري ۾ جيڪو ڪم جو آهي منهنکي تعجب ٿيو آهي ت سڄي ملڪ جو اهڙو حال هوندو ت ڪم ڪيئن ٿيندو هلندو هندو.ضياالحق صاحب جنهن ماڻهو کي اداري مان فارغ ڪرڻ جي ڳاله ڪئي آهي اهو بدقسمت ڪوٺيو يا خوش قسمت صاحب خان چانڊيو آ.آخر ڪهڙي ڳاله هئي جنهن جنرل صاحب کي ان فقير تي ايتري ڪاوڙ ڏياري هئي ؟ان ڳاله جو جواب مان هيٺ بيان ڪيان ٿو.

صاحب خان چانڊي جو جنم ت هنڊستان ۾ ٺيو پر کيس ٻالڪپڻو پاڪستان ۾ آيو.چانڊيو صاحب   1940۾ نوشهروفيروز جي هڪ پتڪڙي ڳوٺ دادن چانڊي ۾ جنم ورتو.سندن ابتدائي تعليم جو آغاز مٺياڻي ۾ ٿيو جنهن جي انجام جي صورت مٽرڪ جي سرٽيفڪيٽ ۾ حاصل ٿي.تعليم جي لاٽ اتي اجھامڻ ن ڏنائون،نور محمد ڪاليج حيدرآباد مان انٽر جو امتحان پاس ڪيائون .علم جي شوق کين يونورسٽي جا ديدار پڻ بخشا سندن ايم اي اڪنامڪس ء سوشالاجي سنڌ يونورسٽي مان ٿيل آهي.

صاحب خان جي زندگي ۾ ڪم جي ڏاڍي اهميت رهي آهي.چانڊي صاحب جي پهرين نوڪري جي شروعات جونيئر ڪلارڪي هئي جنهن  ذريعي پاڻ پريڪٽيڪل لائف ۾ قدم رکيائون.ان کان پوءِ سڪريٽري يونين ڪائونسل ت ڪڏهن شگر مل ۾ ڪين انسپيڪٽر جا فرض نڀائيندي نظر آيا.ڪو وقت ت اهڙو ب آيو جو گهر ۾ واندڪائي واري مصروفيت ۾ گذاري.

ڪنهن جي ڀاڳ سان ڪهڙي رييس،سائين جن کي قائد اعظم يونورسٽي اسلام آباد ۾ هسٽري جي ڊپارٽمنٽ ۾ 17 گريڊ ۾ رسرچ اسڪالر پڻ مقرر ڪيو ويو،ان وقت ڊاڪٽر ڪي ڪي عزيز(مڊر آف هسٽري ) هسٽري ڊپارٽمنٽ جو چيئرمين هيو.پر قسمت کي شايد اهو ڀاءِ ن پيو،پر ڪنهن کي خبر هئي ت صاحب خان جي قسمت کين اڃان ب ڪنهن سٺي طرف پئي ڇڪي وڃي.
چانڊي صاحب کي قسمت اتي اچي لٽڪايو جتي سائين جو ن وهم ن غمان،پاڻ اچي فيڊرل بورڊ آف سيڪنڊري اينڊ انٽرميڊيٽ ۾ اچي اسسٽنٽ ڪنٽرولر مقرر ٿيا.فيڊرل بورڊ جو بنياڊ 1973ذوالفقار علي ڀٽي وڌو جيڪو فوجن جي ٻارن جي سهولت لاءِ هو.
ڪجه ماڻهو ڏسڻ جا ت فقير ء ڪومل طبيعت هندا آهن پر هو پنهنجي اصولن ۾ پٿر جينئا پڪا هوندا آهن، 
خان صاحب جي زندگي ۾ واقعا ت تمام گهڻا ٿيا آهن پر ڪجه حادثا اهڙا ب پيش آيا آهن جن زندگي جو مان اڃان ب وڌائي ڇڏيو اٿن.سندن زندگي جو مشهور واقعو اهو آهي ت پاڻ انمانداري م پنهنجو مٽ پاڻ آهن ،هنن پنهنجي زنده دلي کي برڪرار رکندي  صدر مملڪت ذياالحق سان هڪ مثلي تان فڏو ڪرڻ  ۾ ذري برابر ب خوف ن ورتو ان ڳاله ذيا صاحب کي ڏاڌي چڙ ڏياري.
مثلو ڪجه هي هو ت جڏهن چانڊيو صاحب اسسٽنٽ ڪنٽرولر هئا تڏهن ذيا صاحب فڊرل بورڊ کي هڪ خط لکيو جنهن ۾ هنن اهو عرض رکيو هو ت سندن پٽ انورلحق جا پيپرز ريچيڪ ڪيا وڃن .ريچيڪ جو مطلب اهو هوندو آ ت مهرباني ڪري اسان جا پيپرز هڪ دفعو وري چيڪ ڪيا وڃن ٿي سگهي ٿو ت اوهان کان ڪا پوائنٽ مس ٿي هجي .صاحب خان هنن جا پيپرز ڪڌرائي وري چيڪ ڪرايا پر نتيجو ساڳيوئي  نڪتو ،خان صاحب کي ب ان وقت ايمانداري مٿي تي چڙهيل هئي سو خط جي جواب ۾ ب اهو چئي موڪليو ت سائين پيپرز ريچيڪ ڪيا ويا آهن ء رزلٽ بلڪل پرفيڪٽ آهن اسان مارڪس م ڪ ب تبديلي ن ٿا ڪري سگهون .اصل ۾ ذيا صاحب جي پٽ جي ڊگري  2ڪلاس  ۾ هئي ء هو ان کي 1 ڪلاس م تبديل ڪرائڻ پيا چاهن ان ڪري هنن اهو خط هنن ڏانهن لکيو هو پر اهڙي جواب کان پوءِ جنرل صاحب کي ايتري ت چڙ ڏياري جو جنرل صاحب ، صاحب خان جو اهڙي جاءِ تي ٽرانسفر ڪيو جتي ن چانڊي صاحب جو ڪجه وڃي پيو ء ن هي ان اداري جي سائين جن سا ڪجه.
صاحب خان چانڊيو ليکڪ شاعرء سماجي ڪارڪن پڻ  آهن .سائين جن جو ڪتاب جناح
کوڙوڪروسپونڊنس  منظرعام تي آيل آهي.ان کان علاوه جناح جي ايم سيد ڪرسپونڊنس ء ٻيا وغيره آهن.شاعري ۾ شايد جون ايليا جي اثر هيٺ آهن جو وافر مقدار ۾ شاعري هوندي ب ڇپرائي ن اٿن .ايئين ڪنهن اخبار ۾ ڪڏهن ڪجه غزلون ڏئي ڇڏيون ت اها ٻي ڳاله آهي.
چانڊيو صاحب مذهبي طور ت انهن مسلمانن مان آهن جيڪي پاڪستان م 1973 جي آئين ۾ ڪافر ڪرار ڏنل آهن .ان ڳاله جو ڏک ڪنهن کي ن هوندو ت ڪو مولانا ڪنهن ماڻهو کي وڻيس ت مسلمان ڪري ء چاهي ت ڪافر قرار ڏئي ڇڏي.
چانڊيو صاحب 2000 م فيڊرل بورد جا ڪنٽرولر ٿي رٽائر ٿيا آهن،ايتري وڏي پوسٽ سنڀالن کان پوءِ ب ذاتي اسڪوٽر ن اٿن .هڪڙو مصرو جو هو اڪثر دهرائيندا آهن سو اهو آهي ت”توهان سوچي سگهو ٿا ت جنهن ماڻهو پنهنجي رٽائرمنٽ جي پئسن ما پنهنجو گهر ٺرايو هجي ان وٽ پويان ڇا هوندو؟

ايوب غمدل راڄپر
 


---------- FIRST VERSION-------------

ٿورو صاحب وڌيڪ چانڊيو

ايوب غمدل راڄپر 
ماڻهو جي زندگي هڪ اهڙو امتحان آهي جنهن جو ن پيپر ڏيڻو پوندو آ ن ڪا ڊگري حاصل ٿيندي آ جو حاصل ٿيندو آ اهو صرف نتيجو،ڪن جو نتيجو کين صاحب  بڻائي ت ڪن کي غلام .ڪي تي وڃي ان منزل تي رسن جٿي کين انّا وڪوڙي وڃي ت ڪي وري اتي رهندي ب پنهنجي اندر جي هيڪڙائي ن ڇڏن .
صاحب خان چانڊيو انهن ماڻهون ما هڪ آهي جن پنهنجن اصولن کي پنهنجي زمير جي حلقن ۾ قيد ڪري رکيو آهي. هٿن  ۾ انصاف ء ايمانداري جا ڏيئا کڻي ندگي جي طوفاني هوائن مان گذري چڪا آهن .کين تجربو آٿن ت ڪيترو ڏکيو آهي هڪ ايماندار ماڻهو لاءِ هن بي ايمان دنيا ۾ زندگي گذارڻ . سندن قابليت جو اندازو ان ڳاله مان لڳائي سگهون ٿا ت جڏهن صدرِمملڪت ذياالحق صاحب 1978 ۾ قومي اسيمبلي کي خطاب ڪندي اهو بيان ڏيندي چيو تمان هڪ شخص کي هڪ اداري مان ڪڌڻ پ چاهيو نيٺ خبر پئي ت اهو هڪڙو هي ماڻهو آ سڄي اداري ۾ جيڪو ڪم جو آهي منهنکي تعجب ٿيو آهي ت سڄي ملڪ جو اهڙو حال هوندو ت ڪم ڪيئن ٿيندو هلندو هندو.ضياالحق صاحب جنهن ماڻهو کي اداري مان فارغ ڪرڻ جي ڳاله ڪئي آهي اهو بدقسمت ڪوٺيو يا خوش قسمت صاحب خان چانڊيو آ.آخر ڪهڙي ڳاله هئي جنهن جنرل صاحب کي ان فقير تي ايتري ڪاوڙ ڏياري هئي ؟ان ڳاله جو جواب مان هيٺ بيان ڪيان ٿو.
صاحب خان چانڊي جو جنم ت هنڊستان ۾ ٺيو پر کيس ٻالڪپڻو پاڪستان ۾  آيو.چانڊيو صاحب   1940۾ نوشهروفيروز جي هڪ پتڪڙي ڳوٺ دادن چانڊي ۾ جنم ورتو.سندن ابتدائي تعليم جو آغاز مٺياڻي ۾ ٿيو جنهن جي انجام جي صورت مٽرڪ جي سرٽيفڪيٽ ۾ حاصل ٿي.تعليم جي لاٽ اتي اجھامڻ ن ڏنائون،نور محمد ڪاليج حيدرآباد مان انٽر جو امتحان پاس ڪيائون .علم جي شوق کين يونورسٽي جا ديدار پڻ بخشا سندن ايم اي اڪنامڪس ء سوشالاجي سنڌ يونورسٽي مان ٿيل آهي.
صاحب خان جي زندگي ۾ ڪم جي ڏاڍي اهميت رهي آهي.چانڊي صاحب جي پهرين نوڪري جي شروعات جونيئر ڪلارڪي هئي جنهن  ذريعي پاڻ پريڪٽيڪل لائف ۾ قدم رکيائون.ان کان پوءِ سڪريٽري يونين ڪائونسل ت ڪڏهن شگر مل ۾ ڪين انسپيڪٽر جا فرض نڀائيندي نظر آيا.ڪو وقت ت اهڙو ب آيو جو گهر ۾ واندڪائي واري مصروفيت ۾ گذاري.

   ڪنهن جي ڀاڳ سان ڪهڙي رييس،سائين جن کي قائد اعظم يونورسٽي اسلام آباد ۾ هسٽري جي ڊپارٽمنٽ ۾ 17 گريڊ ۾ رسرچ اسڪالر پڻ مقرر ڪيو ويو،ان وقت ڊاڪٽر ڪي ڪي عزيز(مڊر آف هسٽري ) هسٽري ڊپارٽمنٽ جو چيئرمين هيو.پر قسمت کي شايد اهو ڀاءِ ن پيو،پر ڪنهن کي خبر هئي ت صاحب خان جي قسمت کين اڃان ب ڪنهن سٺي طرف پئي ڇڪي وڃي.
چانڊي صاحب کي قسمت اتي اچي لٽڪايو جتي سائين جو ن وهم ن غمان،پاڻ اچي فيڊرل بورڊ آف سيڪنڊري اينڊ انٽرميڊيٽ ۾ اچي اسسٽنٽ ڪنٽرولر مقرر ٿيا.فيڊرل بورڊ جو بنياڊ 1973ذوالفقار علي ڀٽي وڌو جيڪو فوجن جي ٻارن جي سهولت لاءِ هو.
ڪجه ماڻهو ڏسڻ جا ت فقير ء ڪومل طبيعت هندا آهن پر هو پنهنجي اصولن ۾ پٿر جينئا پڪا هوندا آهن،   
 خان صاحب جي زندگي ۾ واقعا ت تمام گهڻا ٿيا آهن پر ڪجه حادثا اهڙا ب پيش آيا آهن جن زندگي جو مان اڃان ب وڌائي ڇڏيو اٿن.سندن زندگي جو مشهور واقعو اهو آهي ت پاڻ انمانداري م پنهنجو مٽ پاڻ آهن ،هنن پنهنجي زنده دلي کي برڪرار رکندي  صدر مملڪت ذياالحق سان هڪ مثلي تان فڏو ڪرڻ  ۾ ذري برابر ب خوف ن ورتو ان ڳاله ذيا صاحب کي ڏاڌي چڙ ڏياري.
مثلو ڪجه هي هو ت جڏهن چانڊيو صاحب اسسٽنٽ ڪنٽرولر هئا تڏهن ذيا صاحب فڊرل بورڊ کي هڪ خط لکيو جنهن ۾ هنن اهو عرض رکيو هو ت سندن پٽ انورلحق جا پيپرز ريچيڪ ڪيا وڃن .ريچيڪ جو مطلب اهو هوندو آ ت مهرباني ڪري اسان جا پيپرز هڪ دفعو وري چيڪ ڪيا وڃن ٿي سگهي ٿو ت اوهان کان ڪا پوائنٽ مس ٿي هجي .صاحب خان هنن جا پيپرز ڪڌرائي وري چيڪ ڪرايا پر نتيجو ساڳيوئي  نڪتو ،خان صاحب کي ب ان وقت ايمانداري مٿي تي چڙهيل هئي سو خط جي جواب ۾ ب اهو چئي موڪليو ت سائين پيپرز ريچيڪ ڪيا ويا آهن ء رزلٽ بلڪل پرفيڪٽ آهن اسان مارڪس م ڪ ب تبديلي ن ٿا ڪري سگهون .اصل ۾ ذيا صاحب جي پٽ جي ڊگري  2ڪلاس  ۾ هئي ء هو ان کي 1 ڪلاس م تبديل ڪرائڻ پيا چاهن ان ڪري هنن اهو خط هنن ڏانهن لکيو هو پر اهڙي جواب کان پوءِ جنرل صاحب کي ايتري ت چڙ ڏياري جو جنرل صاحب ، صاحب خان جو اهڙي جاءِ تي ٽرانسفر ڪيو جتي ن چانڊي صاحب جو ڪجه وڃي پيو ء ن هي ان اداري جي سائين جن سا ڪجه.
صاحب خان چانڊيو ليکڪ شاعرء سماجي ڪارڪن پڻ  آهن .سائين جن جو ڪتاب جناح کوڙوڪروسپونڊنس  منظرعام تي آيل آهي.ان کان علاوه جناح جي ايم سيد ڪرسپونڊنس ء ٻيا وغيره آهن.شاعري ۾ شايد جون ايليا جي اثر هيٺ آهن جو وافر مقدار ۾ شاعري هوندي ب ڇپرائي ن اٿن .ايئين ڪنهن اخبار ۾ ڪڏهن ڪجه غزلون ڏئي ڇڏيون ت اها ٻي ڳاله آهي.
چانڊيو صاحب مذهبي طور ت انهن مسلمانن مان آهن جيڪي پاڪستان م 1973 جي آئين ۾ ڪافر ڪرار ڏنل آهن .ان ڳاله جو ڏک ڪنهن کي ن هوندو ت ڪو مولانا ڪنهن ماڻهو کي وڻيس ت مسلمان ڪري ء چاهي ت ڪافر قرار ڏئي ڇڏي.
چانڊيو صاحب 2000 م فيڊرل بورد جا ڪنٽرولر ٿي رٽائر ٿيا آهن،ايتري وڏي پوسٽ سنڀالن کان پوءِ ب ذاتي اسڪوٽر ن اٿن .هڪڙو مصرو جو هو اڪثر دهرائيندا آهن سو اهو آهي تتوهان سوچي سگهو ٿا ت جنهن ماڻهو پنهنجي رٽائرمنٽ جي پئسن ما پنهنجو گهر ٺرايو هجي ان وٽ پويان ڇا هوندو؟

ايوب غمدل راڄپر
October 2015 BS-II
Practical work carried out under supervision of Sohail Sangi
Department of Media and Communication Studies, Sindh University  

Tuesday, 6 October 2015

Profile of Dr Sattar Abbasi by Amin Tagar

Intro should be interesting, catchy. This all is Cv type, . profile is describing a personality,  See samples available on FB group 

پروفائيل

عبدالستار عباسي
لکندڙ؛ محمد امين تڳر
رول نمبر 115
عبدالستار عباسي جو جنم هڪ زميندار گهراڻي ۾ 5 جون 1964ع ۾ نالي حاجي عبدالرحيم عباسي جي گهر ۾ ٿيو جيڪو نوشهروفيروز جي ڳوٺ ڪلهوڙا اسٽيشن جو رهواسي هو. عبدالستار عباسي شروعاتي تعليم پنهنجي ڳوٺ مان مڪمل ڪري اعليٰ تعليم لاءِ حيدرآباد ويو جتان هن گورنمينٽ سچل ڪاليج مان بي اي جو امتهان پاس ڪيو. عبدالستار عباسي ڪنهن به تعارف جو محتاج ناهي، هو شروعات کان وڏو زميندار رهيو آهي. هن جو والد به زميندار ۽ سياست ۾ دلچپسي رکندڙ شخصيت هو. هن جو والد جو واسطو سياسي طور پيپلز پارٽي سان رهيو. هن جو والد جڏهن 1992ع ۾ هن فاني دنيا مان لاڏاڻو ڪري ويو ته ان کان پوءِ هن سياست ۾ قدم رکيو. هن جو سياست ۾ شوق تمام گهٽ هو پر والد جي اهم ذميوارين جي ڪري سياست شروع ڪيائين. عبدالستار عباسي 1996ع ۾ پيپلزپارٽي جي ٽڪيٽ تي ايم پي اي چونڊيو. ڪجهه وقت کان پوءِ پرويز مشرف 1999ع ۾ جمهوري حڪومت ختم ڪئي جنهن سبب اسيمبليون ختم ٿي ويون ته هن جي سنڌ اسيمبلي واري ميمبرشپ به ختم ٿي وئي. جنهن کان پوءِ هن جو سياست تان شوق گهٽجي ويو ان کان پوءِ هن سماجي ڪم ڪرڻ لاءِ خادم فقراه ٽرسٽ فائونڊيشن جو بنياد رکيو جيڪو اڄ ڏينهن تائين پاڻ هلائي رهيو آهي. عبدالستار عباسيءَ کي ننڍپڻ کان ئي سماجي، علمي، خير ۽ چڱا ڪم ڪرڻ ڏانهن لاڙو هيو جنهن اڳتي هلي اها ڳالهه ثابت ڪئي ته واقعي عبدالستار عباسي سماجي ڪم ڪرڻ جو دل سان شوق رکي ٿو. گورنمينٽ مدرسه ائنڊ هاءِ اسڪول نوشهروفيروز جي سي ليول هاسٽل ۾ رهندڙِ شاگردن جي کائڻ پيئڻ جو خرچ، يونيفارم ۽ ڪتابن تائين خرچ ادا ڪرڻ- ڪيترائي شاگرد هن جي خرچ تي پڙهي معاشري جا تمام سٺا فرد ثابت ٿيا آهن. ان سان گڏو گڏ ڪيترن ئي ٻين اسڪولن، مدرسن، مسجدن، جيل خانن ۽ بي سهارا عورت جي مدد ڪرڻ، اسپتالن ۾ بيمار مريضن جي مالي مدد ڪرڻ ۾ اڳ کان اڳرا رهندا آهن. اهڙو ڪوبه سماجي، سياسي، ديني، ادبي محفل ۾ شرڪت ڪرڻ ۽ نوجوانن کي سٺن ڪمن ۾ اتساهڻ هن جي طبيعت ۾ شامل آهي.
عبدالستار عباسي جي ڪيترائي اهڙا ڪم آهن جيڪي اسان جي ساهتي پرڳڻي ۾ چنڊ ۽ ستارن جيئن جرڪندا رهن ٿا. عبدالستار عباسي جي پهرين ترجيح اها آهي ته سنڌ جو هر ماڻهو تعليم يافته هجي ۽ سنڌ هميشه خوشحال هجي.


Profile of Imtiaz Ahmed by Saira


خود اعتمادی کامیابی  بنی- امتیاز احمد   

Profile by : SAIRA NASIR

2K14/MC/84


   مکمل جسمانی قوت کے ساتھ دنیاوی کامیابی حاصل کرنے والوں کو تو دنیا بہت سرآہتی ھے ۔مگر وہ لوگ جو جسمانی طور پر کمزور ہوں ، دنیا انہیں طـعنے دے دے کر موت کی گھاٹ اٌتار دیتی ھے یا پھر پستی کے اندھیروں  میں دھکیل دیتی ھے جہاں سے کامیابی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی مگر انہیں اندھیروں، کمزوریوں کو پار کر کے جو کامیابیوں کی راہ پر نکلتے ہیں اصل میں وہی لوگ تعریف اور سر آہنے کے قابل ہوتے ہیں۔ انہیں کی ایک مثال امتیاز احمد ہیں جن کا قد دو فٹ پانچ انچ ہے۔ جو اپنے نام سے ذیادہ ' بونے' یا 'کوڈو' کے نام سے جانے جاتے ہیں۔   انسان نہ ہی اپنی عمر سے بڑا ہوتا ہے، نہ عہدے ،قد، دولت، نسل یا جنس سے، انسان اپنی سوچ اور عمل سے بڑا ہوتا ہے اور امتیاز احمد کی سوچ نے ہی اںھیں قابل اور کامیاب انسان بنایا۔  

امتیاز احمد نے ۲۱ نومبر ۱۹۷۹ میں فیاز احمد کے گھر میں آنکھ کھولی۔ آپ کا تعلق کسی امیر و کبیر بالاسعی تعدد گھرانے سے نہیں تھا بلکہ آپ کی والد صاحب کی جوتوں کی دکان تھی۔ اس غریب گھر کے لیے آزمائش کی گھڑی تب آئی جب ڈاکٹر نے امتیاز احمد کی پیدائش پر خبر سنائی کہ بچہ معزور ہے اور چل پھر نہیں سکتا اور انہیں دو مہینوں کے لیے پاوں میں پلاسٹر لگا دیا گیا۔ آٹھ بہن بھائیوں میں امتیاز احمد کا نمبر سب سے آخری تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ تمام گھر والوں کی توجہ کا مرکز  بنے رہے۔ باقی بچوں کی طرح آپ بھی بچپن میں شرارتی تھے مگر پاوں کی کمزوری کے باعث آہستہ آہستہ کھیل کود کیا کرتے تھے۔  

   خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے 
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

آپ نے اپنی کمزوری کی وجہ سے بھیک کا پیالہ ہاتھ میں پکڑنے کے بجائے تعلیم پر توجہ دی اپنی قابلیت کا لوہا منوایا اور عزت و وقار والی زندگی جینے کو ترجیح دی۔ظاہری جسامت کمزور ہونے کے باٰعث پیدا ہونے والے مساءل کو نظر انداز کر کے آپنے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ سکول جانا شروع کیا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول سے حاصل کی پھر بی کام ڈگری کالج سے کیا اور ساتھ ساتھ DIT (Diploma in Information Technology) بھی کیا۔  امتیاز احمد کا اپنے والد کے ساتھ بے انتہا لگاو اور انکے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی وجہ سے آپ نے اپنے والد سے چشمے بنانے کا ہنر سیکھا۔ 
والدین بچوں کو انگلی پکڑکر چلانا سیکھاتے ہیں  پر ایک وقت آنے پر انھیں خود چلنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن امتیاز احمد اپنی جوانی تک اپنے والدن کی انگلی پکڑ کر چلتے تھے۔ آپ اور لوگوں کی طرح تیز رفتار نہیں لیکن آہستہ آہستہ چلتے ہیں کیونکہ آپکا ماننا ہے کہ ''آہستہ آہستہ ہی سہی مسلسل چلنا کامیابی کی ضمانت ہے''۔

'' ملیں گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاں اب انتظار ہے کب یہ کمال ہوتاھے'' اگر انسان کی لگن سچی ہو تو راستے میں آنے والے پتھر کو بھی اللہ تعالی پتھر کی مورتی بنا کر تقدس کا مقام عطا کر دیتا ہے۔ اور انسان کی لگن سچی ہو تو اللہ تعالی با عزت اور با شرف مقام عطا کر دیتا ہے۔ آپ کہتے ہیں :'' کہ جب میرے باقی ساتھیوں اور ہم عمروں کی شادیاں ہو رہی تھیں تب میں صبر کرتا تھا اور خدا پر توکل کرتا تھا۔ کیونکہ آپکی والدہ ہمیشہ دلاسہ دیتی تھیں اور کہتی تھیں کہ مٹی والا جب مٹی کے سارے برتن لے کر بیچنے نکلتا ہے تو پہلے اعلی اعلی اور خوبصورت برتن بک   جاتے ہیں لیکن آخر میں وہ برتن بھی بک جاتا ہے جو تھوڑا defected  ہوتا  ہے۔ آپ نے اپنی والدہ کی اس مثال کو زندگی کا اہم حصہ بنا لیا اور اپنے نصیب میں بہتری کا انتظار کیا۔
خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں،جسمانی ساخت کے نا مناسب ہونے کے با وجود
 اللہ نے انکو زندگی کا ساتھی انکی مرضی اور منشا کے مطابق عطا کیا۔ اور زندگی کے ساتھی کے ساتھ ساتھ اللہ نے انھیں دو بچے بھی عطا کیے جو انکی دیکھ بھال میں انکا ساتھ دیتے ہیں جنہوں نے آپکو بھرپور زندگی کا احساس دیا۔ آپکے پہلے بیٹے کی پیدائش پر خدا نے آپکو سرکاری ملازمت سے نوازا۔ جس کی joining  کے لیے آپ کو کراچی جانا پڑا۔ خدا کا نام لے کر اور حوصلہ بلند کر کے ڈھائی فٹ قد کے ساتھ جن مشکلات کا سامنا کر کے آپ صبح لوکل بس کا سفر کرتے تھے۔ جہاں بہترین جسامت کے لوگ بھی ہار جاتے ہیں وہاں آپ نے روزانہ سفر طے کر کے پیسا کمایا ور انتھک محنت کر کے اپنا تبادلہ حیدرآباد میں کروایا۔ آپ آج کل ایف جی اسکول کے کمپیوٹر سیکشن میں ہوتے ہیں۔
حادثے بھی شعور رکھتے ہیں
ڈھونڈھ لیتے ہیں غم کے ماروں کو

زندگی کے اتنے امتحانات کے با وجود آزمائشیں آپکا در نہیں بھولی اور ایک اور امتحان آپکی اولاد بنی جب پتاہ چلا کہ آپکا چھوٹا بیٹا بھی آپکی طرح معزوری کا شکار ہے، اور چل پھر نہیں سکتا آپ اپنے بیٹے کے ہر طرح کے علاج کے لیے کوشاں ہیں  اس عزم کے ساتھ کہ:'' زندگی میں جو لوگ کوشش نہیں کرتے،وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے ''

 امتیاز احمد سے جب پوچھا گیا کے آئینے میں خود کو دیکھ کر کیا آپکو خدا کی ذات سے شکایت نہیں ہوتی؟؟
آپ مسکرائے اور سیرت کی خوبصورتی کو صورت کی خوبصورتی پر ترجیح دیتے ہوئے جواب دیا کہ: خوبصورتی کی کمی کو اخلاق پورا کر سکتا ہے مگر اخلاق کی کمی کو خوبصورتی پورا نہیں کر سکتی۔ 
امتیاز احمد معاف کر دینے اور جلد کسی کے برے سلوک اور برے عمل کو بھول جانے کی عادت کے مالک ہیں آپ بتاتے ہیں کہ آپکے نا مناسب قد ہونے کے باعث آپکے بہن بھائی اکثر کم ظرفی کا مظاہرہ کر جاتے ہیں اور آپکی حق تلفی کر جاتے ہیں لیکن آپنے انکی ان باتوں کو کبھی دل میں نہ رکھا بلکہ ہمیشہ معاف کر دیا کیونکہ آپکا ماننا ہے کہ  معاف کر دینے سے آپکی اپنی روح پاک ہو جاتی ہے ۔ آپکے اعلی اخلاق اور اچھی خوبیوں کی وجہ سے آج آپکے گرد والدین کی سر پرستی نہ ہونے کے باوجود بھی بہن بھائیوں، دوستوں، علاقے،دفتر کے لوگوں اور پیاروں کا ہجوم ہے۔ جو آپکو کبھی مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑتے اور آپکی ہر آن مدد کرتے ہیں ۔ 

آپکا پسندیدہ مشغلہ  Hollywood Action Movies دیکھنا ہے۔ آپکا کہنا ہے کہ انگریزی ایکشن فلموں میں ایک ٹرگٹ ہوتا ہے جس کو وہ تمام  مشکلات اور سنگین تر مراحل کو پار کر کے حاصل کرتے ہیں اور بار بار ناکام ہونے کے باوجود آخر کار کامیابی حاصل کر ہی لیتے ہیں۔ آپ بھی جب مایوس  یا دلبرداشتہ ہوجاتے ہیں تو ان فلموں سے سبق لیتے ہیں اور پھر نئے عزم اور امید کے ساتھ آگے لے کر چلتے ہیں کہ اگر حوصلے بلند ہوں تو ہاری ہوئی بازی بھی جیتی جا سکتی ہے اور اگر عزم و ہمت سے کام لیا جائے تو مسلط ہوتی ہوئی شکست بھی فتح میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔۔۔


October 2015 BS-II
Practical work carried out under supervision of Sohail Sangi
Department of Media and Communication Studies, Sindh University  

Profile of Haji Gulab By Anam Shaikh

Profile                                                                           Haji Gulab 
 By Anam Shaikh

We come across so many people who waste their whole life in doubts and fears instead of working hard and facing hardships. They think uselessly and are not sure what their future will be like. Haji Gulab is the person who lived his present with total courage and succeeded in the future.
 Haji Gulab is a gentle, generous, compassionate and a tall person with gallant voice. Rajhistan is his natal sod, came to Pakistan after independence with his parents and siblings and settled in Tando Mohammad Khan.
 He lost his father when he was eight years old. His elder brother got mental trauma because of this lost.
 So much of difficulties and hardships in such young age compelled him to do some work for survival and to help his mother earn to run their house. His mother was a working woman too and brought him up with sincerity and taught him to workhard and never take any donation (zakat) from anyone. Although she was a single parent but she never took such favour from anyone.
 Gulab started selling sweets and boiled legumes in streets. Besides these he sold corn, dry fruits etc at different times.
 He said 'When I was eighteen years old, I went in a club one night and started betting. I won all the money I bet for but I was not happy. There was a guilt inside me. While on my way to home I sat on the stairs outside the mosque and started crying badly. I burnt all the money and thought if I have this money in my fate, I'll earn it in a right way with loyalty and hardwork'.
 He continued selling goods in streets. After some time he got married that too with an honest woman and hardworking. She helped Gulab in all aspects of life.
 Afterwards, he opened a stall of milkrose in a market. Together with his wife he used to run his little shop. His wife used to make serub for milkrose. Initially he started selling 20 kgs per day. By the time the milkrose became famous and its sell increased day by day and reached to 60 kgs per day. This was the beggining of his good time.
 After few years he bought a land for cultivation. He worked with all his passion and courage though he already had gone through lots of troubles. Gulab worked with his heart and soul. His dedication to this field lead himto success. He bought further lands for cultivation in different places of Sindh.
 After decades of his success in early 90s  he was kidnapped for the greed for money. It was the worst time of his life that he came across. He was then released from the kidnappers after fulfiling their demands after one and a half month. He went Lahore for overcoming this incident and within six months he was ready to deal with the world again.
 Gulab is a man of will, a self made person. He has a soft corner for the orphans and widows. He helped them with all his heart. He helped youngsters to get education, to move forward in life or to make their future bright. He helped everyone despite of race, religion or caste. He helps impecunious and poor people. He has also supported so many families financially.
 He is very fond of learning. He never  got educations due to some hard circumstances but education does not mean to learn certain languages and be a degree holder. Its actual meaning is to know and serve humanity and Haji Gulab knows it very well.

Prof M Idress profile by Fatima Mustafa

PROF MUHAMMAD IDRESS 
PROFILE BY FATIMA MUSTAFA   
        2k14/mc/27

     Everyone  should be respected as individuall , but no one idiolized.
Education is the best friend.    An educated person is respected every where for their hardwork .  I believe in human beings , and all  humanbeings are  respected regardless  of their color. Example  of such  great people are present towards our eyes.
Professor Mohammad Idress who is striving his life  to educate many students and his goal of life is to educate the students and aware the students .
 He belong  to District hyderabad and he is such a great person with great experience of life. He is hardworker  from childhood and now he is known from his good nature and kind heart. 
 He started his early education from his hometown and after that he studied higher secondary education from hyderabad.
He was  good friend and classmate of Madam Mariam Noohani the great naat khuwan and nowadays she is no more and also Dr Shams Abbasi who was the director of eduction and was very great lady and supporter of poor people she taught the girls of rural areas . Professor mohammad idress is also the helper of mankind,needy and poor people. He give knowledge to those who want to studied but cant afford . After his early education he do MASTERS in physics.  After that he was assigned as a professor of physics at Government College Hyderabad. After long experience now he is Principle of COUNTY GIRLS COLLEGE. As he is principle there he works like other teachers and taught the students like common teacher, Thats why everyone students, teachers ,collegues and also watchman give lots of respect from their heart. An educational system isn't worth a great deal if it teaches young people how to make a living but doesn't teach them how to make a life.
                         Professor Mohammad Idress is exmaple of  such experienced  people who spread education towards the world. He spend his entire life in simplicity and believe to be a simple person . His passion of life is that if we want to live in peace we spread  eduction towards youngsters. Thats the reason behind his successful career .  He give charity to needy people and he is the honour of his college . He belong to middle class family of kaimkhanis. He give education to his own childrens and give them lesson to live with simplicity. He give his early life towards students and in path of ALLAH . He taught many students who are now at great position today and are very thankfull of such great teachers. 
Feeling proud being the student of such great teachers in my point of view he is ideal personality as he was the principle of our college and we learn lots of great efforts and lessons of life from such great personlities like PROFESSOR MOHAMMA IDRESS AND DR SHAMS ABBASI. He was very intelligent and obidient student and also a great son , father , husband and honest and sincere person in his own life.

 “Courage is the most important of all the virtues because without courage, you can't practice any other virtue consistently.” Though nobody can go back and make a new beginning... Anyone can start over and make a new ending. He is not senior professor but also senior in his family . He is the door of prayers for his students, young teachers and also for his own family. 


October 2015 BS-II
Practical work carried out under supervision of Sohail Sangi
Department of Media and Communication Studies, Sindh University  

Aziz Kingrani profile by Mumtaz Ali Jamali

عزيز ڪنگراڻي


PROFILE BY: Mumtaz Ali Jamali 

ڪنهن يوناني ڏاهي جي چوڻي آهي تـه  تتل مٽي مان ، ڀينل ڀيتن مان ڪکانون گهرن ۽ بوکايل پيٽ مان جڏهن ڪو ٻار جنم وٺندو آهي تـه اهو ٻار ٻين جي ڀيٽ ۾ وڌيڪ زهين ۽ هوشيار هوندو آهي، ۽  اهو جلدي پنهنجي منزل ماڻيندو آهي انهي ڏاهي جي چوڻي  ڪاڇي جي تتل مٽي ، ڀينل ڀيت، هڪ غريب هاري جي  ڪکانئون گهر مان جنم وٺندڙ عزيز ڪنگراڻي سچ ثابت ڪري ڏيکاري.
پاڻ نـه صرف ڪاڇي مان جنم وٺندڙ مشهور ليکڪ، ڪهاڻي ڪار، شاعر، اديب، تاريخ دان،  سماج سڌارڪ بلڪـه ان سان ڳڏ گورمينٽ ڪالج واهي پانڌي (ڪاڇي) جو پرنسپل پڻ  آهن،
سندس جنم ڏينهن 4 فبروري 1960 ۾  ڪاڇي جي غريب هاري سومر خان جي گهر ۾ٿي،  هن جي شخص جي باري ۾ ڳوٺ وارن بـه اهو سوچيو هو تـه هي بـه وڏو ٿي هن ڪاڇي جي تتل زمين ۾ يا تـه ريڍون چاريندو يا وري پنهنجي پيءَ وانگي  ٻني ٻارو ڪندو مگر حقيقت انهي جي اُبتڙ ثابت ٿي.
هن کي پنهنجي پيءَ ننڍي هوندي کان پڙهائڻ شروع ڪري ڇڏيو بعد ۾ جڏهن هن جي والد  کي خبر پئي تـه سندن پٽ عزيز ۾ ڪجهـه ڪرڻ جون صلاحتيون آهن ۽ پڙهائي ۾ هوشيار آهي تـه هن مزدوري ڪري بـه عزيز کي پڙهائڻ جو پاڻ سان واعدو ڪيو هو.
پاڻ پنهنجي بنيادي تعليم پنهنجي آبائي ڳوٺ ماڻڪ  ڪنگراڻي جي گورنمنٽ ماڻڪ  ڪنگراڻي پرائمري اسڪول مان حاصل ڪئي
ميٽرڪ پنهنجي ڳوٺ ۾ ئي مڪمل ڪري انٽر استاد بخاري ڪاليج مان ڪئي،
1982 ۾ انهي ئي ڪاليج مان بي ايس ئي ڪئي. ان کان بعد سنڌ يونورسٽي مان اسلامڪ ڪلچر شعبي ۾ ايم اي ڪئي.
 سنڌ سان محبت هجڻ جي ڪري هن وري سنڌ يونورسٽي مان 1989 ۾ سنڌي شعبي ۾ ماسٽرس جي ڊگري حاصل ڪئي.
سندن اخلاقن سان ڳڏ پڙهائي ۾ هوشيار ۽ زهين هجڻ جي ڪري تمام تر استادن جو دادلو ۽ هيرو رهيو.
جڏهن عزيز ڪنگراڻي  پنھنجي پڙهائي مڪمل ڪئي تـه ڪجهـه سالن بعد 1993ع ۾ هي  جوهي ڪاليج ۾ سنڌي شعبي جو ليڪچرر مقرر ٿيو، پاڻ  پهريون  شخص هيو ڪاڇي جي هڪ هاري  جو جيڪو ڪنهن ڪاليج ۾ ليڪچرر طور مقرر ٿيو، هن جي ڪاميابي تي سڄي ڳوٺ ان وقت جشن ملهايو، ڇو جو ماڻهن جي دل  جو هي بادشاهـه بڻجي چڪو هو.
 سندن لکڻ جو شوق تڏهن جاڳيو جڏهن هن ڪاڇي جي واري جي لهرن کي پنهنجي گهرن منهجان اڏرندي ڏيٺو، پاڻ لکڻ جي شروعات 1974 کان ڪئي. جڏهن پاڻ 8 ڪلاس ۾ هئا ،هن هلال اخبار پاران نڪرندڙ ٻارن جي رسالي ۾ هن هڪ ننڍڙي
ڪهاڻي ليکي، بعد ۾ ٻارن جون ننڍڙيون ننڍڙيون ڪهاڻيون لکندو هيو، پاڻ  ڪاڇي جي ماروئڙن ۽ سانگيئڙن تي  ڪالم، آرٽيڪل شعرو شاعري ڪتاب لکڻ شروع ڪيا ۽ ڪاڇي جي تاريخ تي ڏاڍو ڪم ڪيو هن ڪاڇي جي تاريخ تي ڪافي سارا آرٽيڪل ۽ ڪجهـه ڪتاب بـه لکيا جنهن ۾ ”ڪاڇو هڪ اڀياس“ هڪ مڪمل ڪتاب آهي جنهن ۾ پاڻ ڪاڇي ۾ ٻُڌازم مذهب هجڻ جي تصديق ۽ ڪاڇي  جي قديم آثارن جي پرچار ڪئي، اتان جي رهواسين سان محبت هجڻ جي ڪري هن پنهنجي سڄي زندگي ڪاڇي جي ناوءُ ڪرڻ جو قسم کڻي ڇڏيوهو ۽ هميشـه ڪاڇي جو غلام رهڻ جو پڪو پهـه ڪري ڇڏيو.
ريڊيو  پاڪستان پي ٽي وي  ڪي ٽي اين سنڌ ٽي وي ۽ ٻين مختلف ٽي وي چينلز ۾  پلي ڊراما سولو ڊراما ۽ سيريل ڊرامن سان گڏ  30 کن ريڊيو ۽ لڳ ڀڳ 70 کن سنڌي اردو سولو ،فائيو ڊيز، ٿري ڊيز ٽويئنٽي ڊيز ، سيريلز لکيا آهن، ڪي سيريلس تـ ساڍا 400 قسطن کان بـه مٿي آهن، مگر ان سان گڏو گڏ سماج ۾ اندر برائين تي ڪاڇي جي ماڻهن جي رهڻي ڪهڻي تي ڪهاڻيون ۽  ناول شاعري  ۽ ادبي ۽ تاريخي بوڪ بـه لکيا، جنهن ۾ ”سنڌ پري“ ، ”سنڌ سنڌو جو تحفو“  ”تر تر تي طوفان“ اکر اکر آرسي“، ”روگ“ ۽ ٻيا آهن.
عزيز ڪنراڻي جي هڪڙي نمايان آهي تـه پاڻ  هميشـه پنهنجي هر ڪهاڻي هر ناول ۽ هر ڊرامي ۾ پنهنجي ڳوٺ ڪاڇي جو ذڪر ڪٿي نـه ڪٿي ڪهڙي بـه طرح ضرور ڪيو آهي. هن کي هن وقت تائين 18 کان وڌيڪ مختلف مڃتا ايوارڊ ملي چڪا آهن جنهن ۾ پهريون  ايوارڊ 1990ع ۾ هن کي پنهنجي سنڌي شعبي ۾ پهرين پوزيشن ماڻڻ  تي مليو هو، بعد ۾ هن کي بهترين ليکڪ جو ايوارڊ  بهترين شاعر ايوارڊ بهترين تاريخ دان ايوارڊ بـه مليو.
عام طورتي تـ ماڻهون ڪاميابي جي ڪڍ لڳندا آهن مگر ڪاميابي هن جي ڪڍ لڳي وئي، هڪ ننڍڙي ڳوٺ کان ادبي، سماجي، دنيا ۾ ڪاميابي ماڻيندڙ هن شخص ڪڏهن بـه وڏائي نـه ڪئي، هن جي محنت هن کي هڪ نئو ناوُ ڏنو،  هي چئي ٿو تـه جڏهن مان لڪچر مقرر ٿيو هيس  تـه پنهنجي ڳوٺ جي شاگردن جي سهولت لاءِ ڪاڇي اندر هڪ ڊگري ڪالج جي ضرورت محسوس ڪئي بس انهي ڏينهن کان وٺي ڏينهن رات ڪري ڪوششيون ڪيون، نيٺ هن جي محنت رنگ لاٿو ۽ اتي ڊگري ڪالج قائم ڪرايو، جيتي هينئر پرنسپل تور خدمتون سرانجام ڏئي رهيو آهي،
پاڻ پنهنجي ڪاڇي جو هر دل عزيز شاعر استاد بخاري سان گهڻي محبت ڪندا آهن، کين هر وک وک تي استاد بخاري جي ڳالهـ هي هميشـه ڪندا آهن، هي پاڻ کي استاد جو پيروڪار سڏيندا آهن ۽ مجوده دوُر ۾ استاد جي  شاعري کي هر طبقي سان تعلق رکندڙ   لاءِ هڪ سٺي نصيحت سمجهندا آهن، هن استاد بخاري جي شاعري جي مجموعي نچوڙ تي هڪ ڪتاب لکيو جنهن تي هن کي ايوارڊ سان بـه نوازيو ويو،
عزير ڪنگراڻي هيڏي شهرت ڪاميابي  بعد بـه کين سادي طبيعت جو بادشاهـ شخص آهي سندن خوش مزاج لهجو ، چپن تي هميشـه مُرڪ ۽ پنهنجي ڳوٺ وارن سان هميشـه هڪ هاري جي پٽ جي حيصيت سان پيش ايندو آهي. پاڻ نوجوانن کي مُلڪ جو سمرايو سمجهندا آهن ۽ پنهنجي ڪاڇي کي دنيا جي جنت الفردوس.
اهڙين شخصن جي تاريخ هميشا ساٿ ڏيندي آهي ۽ اهي فاني دنيا ۾ بـه پنهنجو نالو لافاني ڪري ويندا آهن.

PROFILE BY: Mumtaz Ali Jamali
Roll# 2k14/mc/159
October 2015 BS-II
Practical work carried out under supervision of Sohail Sangi
Department of Media and Communication Studies, Sindh University