Showing posts with label سعود. Show all posts
Showing posts with label سعود. Show all posts

Monday, 9 November 2015

Interview with librarian Mazhar Qutub

2k14/MC/63
محمد سعود شیخ
انٹر ویو
لا ئبر یر ین مظہر قطب

تعا رف 
لا ئبر یر ین مظہر قطب لطیف آباد میں عظیم لائبریری نا می ایک لا ئبر یر ی کے ما لک ہیں ۔ یہ 15سال سے اس پیشے سے وابستہ ہیں ۔ مظہر صا حب کتا بو ں سے بے انتہا ءلگاﺅ ر کھتے ہیں ۔ انہو ں نے ڈگر ی کا لج سے بی ۔ ایس ۔ سی کیا ہو ا ہے ۔ یہ لا ئبر یر ی ان کے والد صا حب نے شر وع کی اور ان کی وفا ت کے بعد یہ چلا رہے ہیں ان لا ئبر یر ی میں کتا بو ں کی تعدادتقریباً ۰۰۰۵ہے۔ جو مختلف موضوع پر لکھی گئی ہیں۔ یہ نہایت سبلیقہ مند اور نرم مزاج آدمی ہیں ان کے مطابق


کتابوں پر خرچ ہونے والے پیسے خرچہ نہیں
بلکہ پوری زندگی کے لیئے سرمایہ کاری ہے


س: آپ کتنے سال سے اس لائبریری کو چلارہے ہیں اور آپ کیا دیکھے ہیں لوگوں کے شوق میں اضافہ ہوا ہے یاکمی؟
ج: یہ لائبریری میرے والد مرحوم نے شروع کی اور اس کو تقریباً بیس سال ہو چکے ہیں اور جہاں تک شوق کی بات ہے تو میں کہوں گا کہ اس میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ آج سے تقریباً دس سال پہلے لوگ کتامیں پڑھ کے بے حد شوقین تھے اور پنا ہر ہر پیسہ کتابوں پر خرچ کردیا کرتے تھے۔

س: اس لائبریری میں آپ کے پاس کتنی کتابیں اور زیادہ تر کاموضوع کیا ہے؟
ج ہمارے پاس اس لائبریری میں تقریباً  ہزار ۵کتابیں ہیں جو مختلف موضوعات پر لکھی گئی ہیں جن میں زیادہ ترکا موضو ع سائنس ہے اور اس کے علاوہ کہانیاں ، ناول، رسالے اور ڈائجسٹ بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں۔

س: آپ کتابیں گھروں کی تعداد اور لوگوں کے شوق کے بارے میں کیا کہیں گے؟
ج: دیکھیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ دور میں دوسرے زلائع کی وجہ سے کتاب گھروں اورکتابوں کیاہمیت میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ لیکن ایک خاص طبقہ ابھی بھی کتابوں سے بے انتہا د لگاﺅ رکھتا ہے۔ اور ان میںسے کچھ کم سے کم۵ صفحے پڑھے بغیر اپنے دن کو مکمل نہیں سمجھتے۔

س: کس موضوع پرلوگ آپ سے کتابیں زیادہ طلب کرتے ہیں؟
ج: دیکھیں جہاں تک موضوع کی بات ہے اس پر ہر عمر کے افراد اپنا خاص زوق رکھتے ہیں ۔ بڑی عمر کے افراد زیادہ تر سیاسی اور معاشرتی پر لکھی جانے والی کتابیں طلب کرتے ہیں ۔ جو ان زیادہ تر سائنسی کتابیں اور بچوں کو کہانیاں پسند ہوتی ہیں ۔ عورتیں اور لڑکیاں زیادہ تر ناول اور ڈائجسٹ پڑھنا پسند کرتی ہیں۔

س: آپکے نزدیک لطیف آباد نمبر۸میں شیخ لائبریری ہے جو خاصی بڑی بھی ہے آپ کے خیال میں اس کے ہوتے ہوئے لوگ آپ کے پاس آنا کیوں پسند کریں گے؟
ج:شیخ لائبریری حقیقتاً بہت بڑی ہے لیکن ہمارے پاس کچھ مذہبی کتابوں اور شاعری پر لکھی گئی کتابوں کا ذخیرہ ان سے زیادہ ہے اور ان کتابوں کو پڑھنے والے لوگ ہماری لائبریری کارخ کرتے ہیں۔

س: اس لائبریری سے آپکی ماہانہ کتنی آمدنی ہوجاتی ہے؟
ج: جی اس لائبریری سے بہت زیادہ نہیں تقریباً ۲۱ سے ۵۱ ہزار تک آمدنی ہوجاتی ہے۔

س: کچھ لوگوں کا کہنا ہے لائبریرین ایک بورنگ جاب ہے۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
ج: نہیں ایسا تو کچھ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی جاب ہے جو آپکو روز روز تعلیم یا فتہ بنارہی ہوتی ہے۔ البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لائبریرین خاموش طبیعت کے مالک ہوتے ہیں ۔ کیونکہ خاموشی لائبریری کا ایک بنیا اصول بھی ہے۔

س: آپ اگلے دس سالوں میںکتابیں گھروں کا مستقبل کیا دیکھئے ہیں۔
ج : موجودہ دور میں ٹیکنا لوجی بہت تیز ہوگئی ہے اور انسان کی معلومات کے زرائع وسیع ہوگئے ہیں آپ زیادہ تر لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرکے ہر طرح کی معلومات حاصل کرلیتے ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں ہر بندہ اس خرچ کو برداشت نہیں کرسکتا اور وہ معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ کتاب ہی کو سمجھتا ہے۔ لیکن میں یہ کہوں کا کہ یہ ختم نہیں ہو سکتے کیوںکہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں انسان اور کتاب کے درمیان کوئی نہیں ہوتا۔

س: آپ اپنے پڑھنے والوں کو کتابوں کے بارے میں کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ج: میں پڑھنے والوں کو یہ کہنا چاہوں گا کہ کتابیں انسان کی بہترین دولت ہیں اور دنیا میں جتنے بھی عظیم لوگ آئے۔ جنہوں نے اپنے ملک اور اپنی قوم کی خدمتکی یا دنیا کو اپنی تحقیق سے نوازا یہ سب لوگ کتابوں سے بے پناہ محبت رکھتے تھے۔ اور اس محبت نے ہی انہیں کامیاب انسان بنایا اور دنیا میں جتنی بھی جدّت آجائے کتابوں کی اہمیت باقی رہے گی۔



 -----------------------  FIRST VERSION -------------------
word space,  photo is required. should have read proofs. 
 If u did not filed in hard copy earlier , this will not be considered. 
 There should be space between  one question  (and its answer) and to another question, Try to not use English word, this will disturb the format. even otherwise  it looks bad.  BSc u can write in urdu, and number of books can be written in words in urdu.
Blue marked is irrelevant question, Blue words are mis-spelled. U should have mentioned its private library. bit compare and contrast between govt and other private library like Shiakh library of unit no 8
This could have been a better interview, if taken with proper home work
Photo of the personality and library required
Questions answer should be like this:
س: 
ج:



محمد سعود شیخ  2k14/MC/63
انٹر ویو
لا ئبر یر ین مظہر قطب

تعا رف 
لا ئبریرین مظہر قطب لطیف آباد میں عظیم لا ئبریری نا می ایک لا ئبریری کے ما لک ہیں ۔ یہ 15سال سے اس پیشے سے وابستہ ہیں ۔ مظہر صاحب کتا بو ں سے بے انتہا ءلگاﺅ رکھتے ہیں ۔ انہوں نے ڈگری کا لج سے B.Scکیا ہوا ہے ۔ یہ لا ئبر یری ان کے والد صا حب نے شر وع کی اور ان کی وفا ت کے بعد یہ چلا رہے ہیں ان لائبریری میں کتا بوں کی تعداد تقریباً 5000ہے۔ جو مختلف موضوع پر لکھی گئی ہیں۔ یہ نہایت سلیقہ مند اور نرم مزاج آدمی ہیں ان کے مطابق
کتابوں پر خرچ ہونے والے پیسے خرچہ نہیں
بلکہ پوری زندگی کے لیئے سرمایہ کاری ہے
س آپ کتنے سال سے اس لائبریری کو چلارہے ہیں اور آپ کیا دیکھے ہیں لوگوں کے زوق میں اضافہ ہوا ہے یاکمی؟
ج یہ لائبریری میرے والد مرحوم نے شروع کی اور اس کو تقریباً بیس سال ہو چکے ہیں اور جہاں تک زوق کی بات ہے تو میں کہوں گا کہ اس میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ آج سے تقریباً دس سال پہلے لوگ کتامیں پڑھ کے بے حد شوقین تھے اور پنا ہر ہر پیسہ کتابوں پر خرچ کردیا کرتے تھے۔
س اس لائبریری میں آپ کے پاس کتنی کتابیں اور زیادہ تر کاموضود کیا ہے؟
ج ہمارے پاس اس لائبریری میں تقریباً 5000کتابیں ہیں جو مختلف موضوعات پر لکھی گئی ہیں جن میں زیادہ تر کاموضو ع سائنس ہے اور اس کے علاوہ کہانیاں ، ناول، رسالے اور ڈائجسٹ بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں۔



س آپ کتابیں گھروں کی تعداد اور لوگوں کے شوق کے بارے میں کیا کہیں گے؟
ج دیکھیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ دور میں دوسرے زلائع کی وجہ سے کتاب گھروں اور کتابوں کی اہمیت میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ لیکن ایک خاص طبقہ ابھی بھی کتابوں سے بے انتہا د لگاﺅ رکھتا ہے۔ اور ان میں سے کچھ کم سے کم 5سفحے پڑھے بغیر اپنے دن کو مکمل نہیں سمجھتے۔
س کس موضوع پرلوگ آپ سے کتابیں زیادہ طلب کرتے ہیں؟
ج دیکھیں جہاں تک موضوع کی بات ہے اس پر ہر عمر کے افراد اپنا خاص زوق رکھتے ہیں ۔ بڑی عمر کے افراد زیادہ تر سیاسی اور معاشرتی پر لکھی جانے والی کتابیں طلب کرتے ہیں ۔ جو ان زیادہ تر سائنسی کتابیں اور بچوں کو کہانیاں پسند ہوتی ہیں ۔ عورتیں اور لڑکیاں زیادہ تر ناول اور ڈائجسٹ پڑھنا پسند کرتی ہیں۔
س کتابیں انسان کی دوست ہوتی ہیں آپ کیا کہتے ہیں؟
ج جی واقعی کتابیں انسان کی بہترین دولت ہوتی ہیں اور اپنی پڑھنے والوں کو تنہائی میں بھی محدود کرتی ہیں۔
س اس لائبریری سے آپکی ماہانہ کتنی آمدنی ہوجاتی ہے؟
ج جی اس لائبریری سے بہت زیادہ نہیں تقریباً 12سے 15ہزار تک آمدنی ہوجاتی ہے۔
س کچھ لوگوں کا کہنا ہے لائبریرین ایک بورنگ (Boring Job)ہے۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
ج نہیں ایسا تو کچھ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی جاب (Job)ہے جو آپکو روز روز تعلیم یا فتہ بنارہی ہوتی ہے۔ البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لائبریرین خاموش طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ کیونکہ خاموشی لائبریری کا ایک بنیادی اصول بھی ہے۔
س آپ اگلے دس سالوں میں کتابیں گھروں کا مستقبل کیا دیکھئے ہیں۔
ج موجودہ دور میں ٹیکنا لوجی بہت تیز ہوگئی ہے اور انسان کی معلومات کے زرائع وسیع ہوگئے ہیں آپ زیادہ تر لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرکے ہر طرح کی معلومات حاصل کرلیتے ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں ہر بندہ اس خرچ کو برداشت نہیں کرسکتا اور وہ معلومات حاصل کرنے کا زریعہ کتاب ہی کو سمجھتا ہے۔ لیکن میں یہ کہوں کا کہ یہ ختم نہیں ہو سکتے کیوںکہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں انسان اور کتاب کے درمیان کوئی نہیں ہوتا۔
س آپ اپنے پڑھنے والوں کو کتابوں کے بارے میں کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ج میں پڑھنے والوں کو یہ کہنا چاہوں گا کہ کتابیں انسان کی بہترین دولت ہیں اور دنیا میں جتنے بھی عظیم لوگ آئے۔ جنہوں نے اپنے ملک اور اپنی قوم کی خدمتکی یا دنیا کو اپنی تحقیق سے نوازا یہ سب لوگ کتابوں سے بے پناہ محبت رکھتے تھے۔ اور اس محبت نے ہی انہیں کامیاب انسان بنایا اور دنیا میں جتنی بھی جدّت آجائے کتابوں کی اہمیت باقی رہے گی۔

Tuesday, 3 November 2015

shopping from malls - Saud



2k14/MC/63
محمد سعود شیخ
فیچر

حیدر آباد میں مارٹ اور مالز سے خریداری کا رجحان

اکیسویں صدی میں دنیا میں بہت سی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہوئیں۔ مختلف طرح کی ایجادات ہوئیں اور انسان کو اس سے بے شمار فائدے حاصل ہوئے۔ ان تبدیلیوں کا انسانی زندگی پر بہت گہر اثر پڑ اور اس نے اپنی زندگی کے رہن سہن اور معاملات کو تبدیل کیا ۔ اس تبدیلی نے انسان کو خاصا آرام پسند بنا دیا اور انسان اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیئے آسان
سے آسان راستہ تلاش کرنے لگا۔

اس ہی طرح کی تبدیلی حیدرآباد کے بازاروں میں 2010کے بعد آنا شروع ہوگئی ۔ یہ بازار مارٹ اور مالز میں تبدیل ہونا شروع ہوگئے ان بازاروں کی چمک دھمک میں اضافہ ہوگیا اور بے حد پر کشش ہوے ایک وقت تھا جب یہاں کے تمام لوگ اپنا ا گھریلوسامان خریدنے کے لئے پورے پورے بازار کے چکر لگاتے پھرتے تھے۔ حیدرآباد میں رہنے والے ایک شہری عزیز صاحب کے مطابق پہلے ایک دکان سے پر چونی کا سامان خریدنا پڑتا تھا اور اگلی مارکیٹ میں جاکر گوشت خریدنا پڑتا اور پھر فروٹ مارکیٹ جاکر فروٹ خریدنا پڑتا۔ اس تمام خریداری میں خاصاوقت ضائع ہوتا اور اکثر مارکیٹ میں رش اور گرمی کی وجہ سے لوگ پریشان ہوجاتے تھے۔ اس کے علاوہ دکانداروں سے بھاﺅ تاﺅکرنا ان کا ایک خاص مشعلہ تھا ۔

لیکن اب حیدرآباد کے کچھ بازاروں کی شکل تبدیل ہوگئی ہے اور حیدرآباد کی خاصی آبادی ان بازاروں کارخ کرنے لگی ہے۔ 2011سے2015حیدرآباد میں تقریباً 25سے زیادہ چھوٹے بڑے مارٹ کھل چکے ہیں ۔ جن میں پر چونی کا سامان گھر یلو سامان ، کپڑے برتن، بچوں کے کھلونے، گوشت پھل نیز ضروریات زندگی کا تمام سامان موجود ہے ۔ ایک خاص بات ان مارٹ اور مالز کی یہ بھی ہے کہ آپ یہاں اپنی پوری فیملی کے ساتھ با آسانی شاپنگ کرسکتے ہیں۔ ان مالز میں ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد کی ضرورت کی اشیاءدستیاب ہیں ۔ جو یہاں کی ایک خاص بات ہے ۔ اس کے علاوہ یہ مال سینٹر ل ا ے سی ہوتے ہیں۔ جس سے یہاں آنے والے خریداری گرمی سے محفوظ ہیں۔

ان مارٹ میں اگر آپ داخل ہوتے ہیں۔ تو اکثریہاں ایک گارڈ موجود ہوتا ہے جو آپ کے لئے دروازہ کھولتا ہے۔ جس سے آپ کو ایک خاص خوشی سی محسوس ہوتی ہے اور اس کے بعدآپ ایک ایسی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں اشیاءکی بھر مارہوتی ہے اور ان کو دیکھ کر اکثر لوگوں کا دل للچانے لگتاہے۔ یہ تمام اشیاءاس انداز اور اس سلیقے سے رکھی ہوتی ہیں ۔جو دیکھنے والے کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرتی ہے۔ یہاں سامان خریدنے کے لئے عام بازاروں کی طرح ادھر سے اُدھر بھاگنے کی ضرورت نہیں ۔ بلکہ ہر چیز کے لئے ایک خاص حصہ مخصوص ہوتاہے۔ جہاں اس چیز کی تمام قسمیں موجود ہوتی ہیں اور ہر چیز کے نیچے اس کے پیسے لکھے ہوتے ہیں اس کے علاوہ سیلز مین بھی موجود ہوتے ہیں جو آپ کو آپ کی خریداری میں مدد کرتے ہیں۔ ان تمام خریدی گئی چیزوں کو ٹوکری میں جمع کر کے کاﺅنٹر پر لے جایا جاتا ہے جہاں آپ کو ان خریدی گئی تمام چیزوں کے پیسے ادا کرنے ہوتے ہیں لیکن یہ کیشیئر ان پر چونی کی دکان پر موجود کیشیئر سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو پہلے چیزوں کی لسٹ بناتے ہیں پھر انہیں جوڑتے ہیں ۔بلکہ یہ کیشیئر ایک خاص مشین جسے بارکوڈ ریڈ کہتے ہیں اس کی مدد سے 2سے 3منٹ میں بہت سے اشیاءکا بل بنا کر آپکے ہاتھ میں تھمادیتا ہے اور آپ جلدی سے اسکی ادائیگی کر کے اپنے گھر روانہ ہوجاتے ہیں۔ اکثر مارٹ میں لوگوں کے لئے ریسٹورینٹ بھی کھولے گئے ہیں جہاں لوگ فیملی کے ساتھ کھانا بھی کھاتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں ۔

آجکل حیدرآباد کی خاصی آبادی ان مارٹ سے شوپنگ کررہی ہے جہاں ہر طبقے کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ مارٹ ہر چیز بڑی مقدار میں کمپنی سے خریدتے ہیں اس وجہ سے ان کو یہ چیز عام دکانداروں کے مقابلے میں خاصی سستی ملتی ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ یہ زیادہ تر چیزیں مارکیٹ ریٹ سے کم میں لوگوں کو مہیا کرتے ہیں یہاں ریٹ کے ساتھ ساتھ کو الٹی کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ تمام وہ جو بات ہیں جن کے بناءپر حیدرآباد کے لوگوں نے مارٹ اور مال کارخ کرنا شروع کردیا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان مارٹ اور شاپنگ مالز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے عام دکانداروں کی سیل پر بہت اثر پڑا ہے۔

اس طرح کے مارٹ اور شاپنگ مالز کا چرچہ اس وقت حیدرآباد میں عام ہونے لگاجب کراچی سے آنے والے لوگ میڑوشاپنگ مال کی تعریفیں کرنے لگے اور اکثر تویہ کہنے لگے کہ وہاں سوئی سے لیکر چہاز تک ہر چیز موجود ہے اس طرح حیدرآباد میں بھی اس طرح کے بازاروں سے شاپنگ کرنے کا شوق بڑھا اور یہاں تیری سے مالز بننا شروع ہوگئے۔ اس وقت حیدرآباد میں25سے زیادہ مارٹ اور مالز موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ بہت سے مالز کی تعمیر جاری ہے۔

Saud 

 2k14/MC/63


 ----------------------------------------- SECOND ATTEMPT------------------------------
Paragraphing is missing, which is must. See ur topic and pix, both are not matching with each other. u should have more pix
Now composing is ok . At least u should know what is spelling of feature. see how u spelled file name
محمد سعود شیخ 2k14/MC/63
فیچر

"حیدر آباد میں مارٹ اور مالز سے خریداری کا رجحان"

اکیسویں صدی میں دنیا میں بہت سی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہوئیں۔ مختلف طرح کی ایجادات ہوئیں اور انسان کو اس سے بے شمار فائدے حاصل ہوئے۔ ان تبدیلیوں کا انسانی زندگی پر بہت گہر اثر پڑ اور اس اپنی زندگی کے رہن سہن اور معاملات کو تبدیل کیا ۔ اس تبدیلی نے انسان کو خاصا آرام پسند بنا دیا اور انسان اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیئے آسان سے آسان راستہ تلاش کرنے لگا۔
اس ہی طرح کی تبدیلی حیدرآباد کے بازاروں میں 2010کے بعد آنا شروع ہوگئی ۔ یہ بازار مارٹ اور مالز میں تبدیل ہونا شروع ہوگئے ان بازاروں کی چمک دھمک میں اضافہ ہوگیا اور بے حد پر کشش ایک وقت تھا جب یہاں کے تمام لوگ اپنا ا گھریلوسامان خریدنے کے لئے پورے پورے بازار کے چکر لگاتے پھرتے تھے۔ حیدرآباد میں رہنے والے ایک شہری عزیز صاحب کے مطابق پہلے ایک دکان سے پر چونی کا سامان خریدنا پڑتا تھا اور اگلی مارکیٹ میں جاکر گوشت خریدنا پڑتا اور پھر فروٹ مارکیٹ جاکر فروٹ خریدنا پڑتا۔ اس تمام خریداری میں خاصاوقت ضائع ہوتا اور اکثر مارکیٹ میں رش اور گرمی کی وجہ سے لوگ پریشان ہوجاتے تھے۔ اس کے علاوہ دکانداروں سے بھاﺅ تاﺅکرنا۔ ان کا ایک خاص مشعلہ تھا لیکن اب حیدرآباد کے کچھ بازاروں کی شکل تبدیل ہوگئی ہے اور حیدرآباد کی خاصی آبادی ان بازاروں کارخ کرنے لگی ہے۔ 2011سے2015حیدرآباد میں تقریباً 25سے زیادہ چھوٹے بڑے مارٹ کھل چکے ہیں ۔ جن میں پر چونی کا سامان گھر یلو سامان ، کپڑے برتن، بچوں کے کھلونے، گوشت پھل نیز ضروریات زندگی کا تمام سامان موجود ہے ۔ ایک خاص بات ان مارٹ اور مالز کی یہ بھی ہے کہ آپ یہاں اپنی پوری فیملی کے ساتھ با آسانی شاپنگ کرسکتے ہیں۔ ان مالز میں ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد کی ضرورت کی اشیاءدستیاب ہیں ۔ جو یہاں کی ایک خاص بات ہے ۔ اس کے علاوہ یہ مال سینٹر ل ا ے سی ہوتے ہیں۔ جس سے یہاں آنے والے خریداری گرمی سے محفوظ ہیں۔ ان مارٹ میں اگر آپ داخل ہوتے ہیں۔ تو اکثریہاں ایک گارڈ موجود ہوتا ہے جو آپ کے لئے دروازہ کھولتا ہے۔ جس سے آپ کو ایک خاص خوشی سےی محسوس ہوتی ہے اور اس کے بعدآپ ایک ایسی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں اشیاءکی بھر مارہوتی ہے اور ان کو دیکھ کر اکثر لوگوں کا دل للچانے لگتاہے۔ یہ تمام اشیاءاس انداز اور اس سلیقے سے رکھی ہوتی ہیں ۔جو دیکھنے والے کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرتی ہے۔ یہاں سامان خریدنے کے لئے عام بازاروں کی طرح یہاں ادھر سے اُدھر بھاگنے کی ضرورت نہیں ۔ بلکہ ہر چیز کے لئے ایک خاص حصہ مخصوص ہوتاہے۔ جہاں اس چیز کی تمام قسمیں موجود ہوتی ہیں اور ہر چیز کے نیچے اس کے پیسے لکھے ہوتے ہیں اس کے علاوہ سیلز مین بھی موجود ہوتے ہیں جو آپ کو آپ کی خریداری میں مدد کرتے ہیں۔ ان تمام خریدی گئی چیزوں کو ٹوکری میں جمع کر کے کاﺅنٹر پر لے جایا جاتا ہے جہاں آپ کو ان خریدی گئی تمام چیزوں کے پیسے ادا کرنے ہوتے ہیں لیکن یہ کیشیئر ان پر چونی کی دکان پر موجود کیشیئر سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو پہلے چیزوں کی لسٹ بناتے ہیں پھر انہیں جوڑتے ہیں ۔بلکہ یہ کیشیئر ایک خاص مشین جسے بارکوڈ ریڈ (Bar Code Reader)کہتے ہیں اس کی مدد سے 2سے 3منٹ میں بہت سے اشیاءکا بل بنا کر آپکے ہاتھ میں تھمادیتا ہے اور آپ جلدی سے اسکی ادائیگی کر کے اپنے گھر روانہ ہوجاتے ہیں۔ اکثر مارٹ میں لوگوں کے لئے ریسٹورینٹ بھی کھولے گئے ہیں جہاں لوگ فیملی کے ساتھ کھانا بھی کھاتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں ۔
آجکل حیدرآباد کی خاصی آبادی ان مارٹ سے شوپنگ کررہی ہے جہاں ہر طبقے کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ مارٹ ہر چیز بڑی مقدار میں کمپنی سے خریدتے ہیں اس وجہ سے ان کو یہ چیز عام دکانداروں کے مقابلے میں خاصی سستی ملتی ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ یہ زیادہ تر چیزیں مارکیٹ ریٹ سے کم میں لوگوں کو مہیا کرتے ہیں یہاں ریٹ کے ساتھ ساتھ کو الٹی کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ تمام وہ جو بات ہیں جن کے بناءپر حیدرآباد کے لوگوں نے مارٹ اور مال کارخ کرنا شروع کردیا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان مارٹ اور شاپنگ مالز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے عام دکانداروں کی سیل پر بہت اثر پڑا ہے۔
اس طرح کے مارٹ اور شاپنگ مالز کا چرچہ اس وقت حیدرآباد میں عام ہونے لگاجب کراچی سے آنے والے لوگ میڑوشاپنگ مال کی تعریفیں کرنے لگے اور اکثر تویہ کہنے لگے کہ وہاں سوئی سے لیکر چہاز تک ہر چیز موجود ہے اس طرح حیدرآباد میں بھی اس طرح کے بازاروں سے شاپنگ کرنے کا شوق بڑھا اور یہاں تیری سے مالز بننا شروع ہوگئے۔ اس وقت حیدرآباد میں25سے زیادہ مارٹ اور مالز موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ بہت سے مالز کی تعمیر جاری ہے۔

 --------------------------  FIRST VERSION ------------------

Referred back
Feature is laways reporting based and it major function is to intertain. therefore it should eb  written in interesting manner 
See ur composing. Is it readable?
fotos are also required
آ پ نے ”ی“ کے لئے” آئی “کے بجائے” وائی“ کی کی استعمال کی ہے۔ اپنی کمپوزنگ دیکھ لیں اور اسکو ٹھیک کریں

محمد سعود شےخ 2k14/MC/63 فےچر 
"حےدرآباد مےں مارٹ اور مالز سے خرےداری کا رجحان"

اکےسوےں صدی مےں دنےا مےں بہت سی تبدےلےاں تےزی سے رونما ہوئےں۔ مختلف طرح کی اےجادات ہوئےں اور انسان کو اس سے ے شمار فائدے حاصل ہوئے۔ ان تبدےلےوں کا انسانی زندگی پر بہت گہرا اثر پڑا اور اس اپنی زندگی کے رہن سہن اور معاملات کو تبدےل کےا۔ اس تبدےیل نے انسان کو خاصا آرام پسند بنادےا اور انسان اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے آسان سے آسان راستہ تلاش کرنے لگا۔ 
اس ہی طرح کی تبدےلی حےدرآباد کے بازاروں مےں 2010 کے بعد آنا شروع ہوگئی۔ ےہ بازار مارٹ اور مالز مےں تبدےل ہونا شروع ہوگئے ان بازاروں کی چمک دھمک مےں اضافہ ہوگےا اور بے حد پرکشش اےک وقت تھا جب ےہاں کے تمام لوگ اپنا گھرےلو سامان خرےدنے کے لئے پورے پورے بازار کے چکر لگانے پھرتے تھے۔ اےک دکان سے پر چونی کا سامان خرےدناپڑتا تھا اور اگلی مارکےٹ مےں جا کر گوشت خرےدنا پڑتا اور پھر فروٹ مارکےٹ جاکر فروٹ خرےدنا اور پھر فروٹ مارکےٹ جاکر فروٹ خرےدنا پڑتا۔ اس تمام خرےداری مےں خاصا وقت ضائع ہوتا اور اکثر مارکےٹ مےں رش اور گرمی کی وجہ سے لوگ پرےشان ہوجاتے تھے۔ اس کے علاوہ دکانداروں سے بھاﺅ تاﺅ کرنا۔ ان کا اےک خاص مشعلہ تھا لےکن اب حےدرآباد کے کچھ بازاروں کی شکل تبدےل ہوگئی ہے اور حےدرآباد کی خاصی آبادی ان بازاروں کا رخ کرنے لگی ہے ۔ 2011 سے 2015 حےدرآباد مےں تقرےباً 25 سے زےادہ چھوٹے بڑے مارٹ کھل چکے ہےں۔ جن مےں پرچونی کا سامان گھرےلو سامان، کپڑے برتن، بچوں کے کھلونے ، گوشت پھل نےز ضرورےات زندگی کا تمام سامان موجود ہے۔ اےک خاص بات ان مارٹ اور مالز کی ےہ بھی ہے کہ آپ ےہاں اپنی پوری فےملی کے ساتھ باآسانی شاپنگ کرسکتے ہےں۔ ان مالز مےں ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد کی ضرورت کی اشےاءدستےاب ہےں۔ جو ےہاں کی اےک خاص بات ہے۔ اس کے علاوہ ےہ مال سےنٹرل اے سی ہوتے ہےں۔ جس سے ےہاں آنے والے خرےدار گرمی سے محفوظ ہےں۔ ان مارٹ مےں اگر آپ داخل ہوتے ہےں تو اکثر ےہاں اےک گارڈ موجود ہوتا ہے جو آپ کے لئے دروازہ کھولتا ہے۔ جس سے آپ کو اےک خاص خوشی سی محسوس ہوتی ہے اور اس کےی بعد آپ اےک اےسی دنےا مےں داخل ہوجاتے ہےں جہاں اشےاءکی بھر مار ہوتی ہے اور ان کو دےکھ کر اکثر لوگوں کا دل للچانے لگتا ہے۔ ےہ تمام اشےاءاس انداز اور اس سلےقے سے رکھی ہوتی ہےں۔ جو دےکھنے والے کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرتی ہے۔ ےہاں سامان خرےدنے کے لئے عام بازاروں کی طرح ےہاں ادھر سے ادھر بھاگنے کی ضرورت نہےں۔ بلکہ ہر چےز کے لئے اےک خاص حصہ مخصوص ہوتا ہے۔ جہاں اس چےز کی تمام قسمےں موجود ہوتی ہےں اور ہر چےز کے نےچے اس کے پےسے لکھے ہوتے ہےں اس کے علاوہ سےلز مےں بھی موجود ہوتے ہےں جو آپ کو آپکی خرےداری مےں مدد کرتے ہےں۔ ان تمام خرےدی گئی چےزوں کو ٹوکری مےں جمع کر کے کاﺅنٹر پر لے جاےا جاتا ہے جہاں آﷲ کو ان خرےدی گئی تمام چےزوں کے پےسے ادا کرنے ہوتے ہےں لےکن ےہ کےشےئر ان پرچونی کی دکان پر موجود کےشےرسے بالکل مختلف ہوتا ہے جو پہلے چےزوں کی لسٹ بناتے ہےں پھر انہےں جوڑتے ہےں۔ بکہ ےہ کےشےراےک خاص مشےن سے بار کوڈ رےڈ (Bar Code Reader) کہتے ہےں اس کی مدد سے 2 سے 3 منٹ مےں بہت سے اشےاءکا بل بنا کر آپکے ہاتھ مےں تھما دےتا ہے اور آپ جلدی سے اسک یادائےگی کر کے اپنے گھر روانہ ہوجاتے ہےں۔ اکثر مارٹ مےں لوگوں کے لئے رےسٹورےنٹ بھی کھولے گئے ہےں جہاں لوگ فےملی کے ساتھ کھانا بھی کھاتے ہےں اور لطف انداز ہوجاتے ہےں۔ 
آجکل حےدرآباد کی خاص آبادی ان مارٹ سے شوپبنگ کررہی ہے جہاں ہر طبقے کے لوگ موجود ہوتے ہےں۔ کےونکہ ےہ مارٹ ہر چےز بڑی مقدار مےں کمپنی سے خرےدتے ہےں اس وجہ سے ان کو ےہ چےز عام دکانداروں کے مقابلے مےں خاصی سستی ملتی ہے اور ےہ ہی وجہ ہے کہ ےہ زےادہ تر چےزےں مارکےٹ رےٹ سے کم مےں لوگوں کو مہےا کرتے ہےں ےہاں رےٹ کے ساتھ ساتھ کوالٹی کا بھی خاص خےال رکھا جاتا ہے۔ ےہ تمام وہ وجوہات ہےں جن کے بناءپر حےدرآباد کے لوگوں نے مارٹ اور مال کا رخ کرنا شروع کردےا ہے اس بات مےں کوئی شک نہےں کہ ان مارٹ اور شاپنگ مالز کی تےزی سے بڑھتی ہوئی تعدادکی وجہ سے عام دکانداروں کی سےل پر بہت اثر پڑا ہے۔ 
اس طرح کے مارٹ اور شاپنگ مالز کا چرچہ اس وقت حےدرآباد مےں عام ہونے لگا جب کراچی سے آنے والے لوگ مےٹرو شاپنگ مال کی بڑی بڑی تعرےفےں کرنے لگے اور اکثر توےہ کہنے لگے کہ و ہاں سوئی سے لےکر چہاز تک ہر چےز موجود ہے اس طرح حےدرآباد مےں بھی اس طرح کے بازاروں سے شاپنگ کرنے کا شوق بڑھا اور ےہاں تےزی سے مالز بننا شروع ہوگئے۔ اس وقت حےدرآباد مےں 25 سے زےادہ مارٹ اور مالز موجود ہےں ۔ اس کے علاوہ بہت سے مالز کی تعمےر جاری ہے۔