Showing posts with label Shopping. Show all posts
Showing posts with label Shopping. Show all posts

Wednesday, 11 November 2015

Resham Bazaar by Fatima Mustafa


Feature by: Fatima Mustafa
Roll No: 2k14-MC-27
RESHAM GALI AND SHAHI BAZZAR
Resham Gali is a name of market which is located in Hyderabad, this is one of the most preferable market of Pakistan for people. In the shops of Reham Gali you found a lot variety of bed sheets which is called Agrak bedsheet and the most preferable thing in Reham Gali is bangles that are not very much expensive and bangles are beautiful and exported to nearby cities of Hyderabad like Kotri , Jamshoro and nearby regions of  Sindh. The Shahi Bazar is considered one of the longest bazaars in Asia.

The visitor of Hyderabad must go to see and shop in the several kilometre long narrow lane bazaar. The word Shahi is derived from the word 'Shah' which means 'kings'. This bazaar is known as Shahi Bazaar because it was first established by Kalhora ruler who, when changed the capital of Sindh from Khudabad to Hyderabad, persuaded many traders to come and start trading at this bazaar. It starts from the very gate of the Packo Qilo Fort and extends up to the Naval Rai Clock Tower. Plenty of souvenirs, handicraft, and embroidery and jewelry shops can be found in Shahi Bazaars where you can hunt down for wide variety of different quality of handicrafts and souvenirs at very reasonable prices. You can find here plenty of shops sell Ajrak and Sindhi caps. An attraction in the bazaar is a tall structure of Navalrai Market Clock Tower built in 1914 at the one end of bazaar. Resham Gali, a lateral extension of Shahi Bazaar known for large variety of clothes, glass bangles, Sindhi 'Kundan' gold jewelry as well as imitation jewelry.

Ramadan is the Best time to visit Hyderabad markets when the streets are overloaded with lights, late night cricket tournaments are at peak and shopping complexes surcharged. Resham Gali is very old market of Hyderabad, there is found more than 200 shops that earn daily a great economy for the city about 70% economy of Hyderabad is based on this market. Resham Gali is situated at the centre of city. Right side it contain a route to cloth market, biggest cloth centre of Hyderabad city. In left it contains route to Hyder chock. From top it contain beautiful markets like Tilak Chari and Chotki Ghiti. We can judge it is biggest trading centre after than Karachi in Sindh. Resham Gali also contains food shops where people make their breakfast drink tea eat different varieties of Hyderabad city.

The route that Reham Gali is situated always we found rush of cars because of it is big shopping centre and people get their items of very cheap rates. In market a bulk rush of girls and women is found because market contain ladies garments cloths goods that mostly attracts female gender to market. Beside the market there are shops of used cloths that contain used cloths but in good condition for the people of Hyderabad with less budget. These cloths are no local but are imported from internally and sold in Hyderabad Resham Gali market. Reham Gali contain more than 7 roots for entrance and exits from different corners of other markets.

under supervision of Sir Sohail Sangi

Tuesday, 3 November 2015

New cloth market

 شہر یار رشید رول نمبر 147
It lacks stories. What is current condition?  much improvement is needed. Are u sure it was built in 1948? some board etc? there must be some evidence. 
 فیچر
کلاتھ مارکیٹ
  آئے بات کرتے ہیں حیدرآباد کی کلاتھ مارکیٹ کی جہاں ہر طرح کا کپڑا برائے فروخت ہے اور پورے پاکستان میں چوڑیاں بھی یہی سے ٹرانسپورٹ کی جاتی ہے۔ ہم کلاتھ مارکیٹ میں نئے کپڑے خریدنے جاتے ہیں مگر اب بہت کم لوگوں کو کلاتھ مارکیٹ میں دلچسپ باتوں کا پتہ ہے جیسے کہ یہ مارکیٹ کیسے وجود میں آئی ؟ 
آئے بات کرتے ہیں کلاتھ مارکیٹ کے وجود میں آنے کی ۔ کلاتھ مارکیٹ کاروباری تاجروں نے 1948 میں مہاجر آباد کاری کے لیے بنائی تھی ۔کلاتھ مارکیٹ بلدیہ کا پلاٹ ہے اس کا رقبہ 92270 اسکوئر فٹ ہے اسکی چار دیواری میں 700 دوکانیں ہیں ۔کلاتھ مارکیٹ کی تعمیر دو لوگوں نے کی جن کے نام یہ ہیں ۔ ©" محمو د الہی" اور " حاجی خیر محمد" ان دونوں کو بلدیہ نے یہ پلاٹ 30 سال کی لیس پر دیا اور ان دونوں کی کمپنی کا نام RCC کمپنی تھا چند سال بعد لیس کو ختم کر دیا گیا اور پھر بلدیہ دکانداروں سے کرایہ لیتی رہی . RCC کمپنی نے بلدیہ پر کیس کر دیا اور یہ کیس RCC کمپنی جیت گئی اور پھر 1998 میں بلدیہ نے RCC کمپنی کو 30 سال کے لیے لیس دوبارہ دی اس کے بعد RCC کمپنی نے دکانداروں پر نئے قانون لاگو کرنے لگی جس پر 2010 میں عزیم وشان ڈویلپر کمپنی نے RCC پر ایک سول شوٹ داخل کیا اور 2011 میں RCC کمپنی اور ڈویلپر کمپنی کا راضی نامہ ہو گیا جس پرکورٹ نے ڈگری کر دی اور پھر تمام دوکانیں ڈگری کے ذریعہ ڈویلپر کمپنی نے سب لیس کر دی جس کی وجہ سے اب دوکانداروں کو 2028 تک کرایہ نہیں دینا ہو گا۔
 ٭موجودہ حالات: 
  تاجروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے موجودہ حالات بہت بہتر ہیں کاروبار بہت اچھے سے چل رہے ہیں۔
 ٭شاپ کیپروں کے تعصورات:
  شاپ کیپرز بھی بہت خوش ہیں اپنے کام کو لیکر روزانہ کی اچھی کمائی ہونے کی وجہ سے شاپ کیپرز کا دل بھی کام میں لگا رہتا ہے بس شکایت صرف ایک ہے کہ کلاتھ مارکیٹ کا روڈ بہت خراب ہے جس کی وجہ سے ٹریفک بہت زیادہ رہتا ہے اور شاپ کیپرز کو آنے جانے میں دشواری ہوتی ہے۔
 ٭ماہرین کے نظریات :
  ماہرین کاکہنا ہے کے ویسے تو کلاتھ مارکیٹ میں ہر چیز کی سہولت موجود ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ایک پارکنگ پلازہ بنا کردیا جائے پارکنگ نہ ہونے کی صورت میں خریداروں کو بھی دشواری کا سامنہ کرنا پڑھتا ہے۔

This practical work was carried under supervision of Sir Sohail Sangi     

shopping from malls - Saud



2k14/MC/63
محمد سعود شیخ
فیچر

حیدر آباد میں مارٹ اور مالز سے خریداری کا رجحان

اکیسویں صدی میں دنیا میں بہت سی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہوئیں۔ مختلف طرح کی ایجادات ہوئیں اور انسان کو اس سے بے شمار فائدے حاصل ہوئے۔ ان تبدیلیوں کا انسانی زندگی پر بہت گہر اثر پڑ اور اس نے اپنی زندگی کے رہن سہن اور معاملات کو تبدیل کیا ۔ اس تبدیلی نے انسان کو خاصا آرام پسند بنا دیا اور انسان اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیئے آسان
سے آسان راستہ تلاش کرنے لگا۔

اس ہی طرح کی تبدیلی حیدرآباد کے بازاروں میں 2010کے بعد آنا شروع ہوگئی ۔ یہ بازار مارٹ اور مالز میں تبدیل ہونا شروع ہوگئے ان بازاروں کی چمک دھمک میں اضافہ ہوگیا اور بے حد پر کشش ہوے ایک وقت تھا جب یہاں کے تمام لوگ اپنا ا گھریلوسامان خریدنے کے لئے پورے پورے بازار کے چکر لگاتے پھرتے تھے۔ حیدرآباد میں رہنے والے ایک شہری عزیز صاحب کے مطابق پہلے ایک دکان سے پر چونی کا سامان خریدنا پڑتا تھا اور اگلی مارکیٹ میں جاکر گوشت خریدنا پڑتا اور پھر فروٹ مارکیٹ جاکر فروٹ خریدنا پڑتا۔ اس تمام خریداری میں خاصاوقت ضائع ہوتا اور اکثر مارکیٹ میں رش اور گرمی کی وجہ سے لوگ پریشان ہوجاتے تھے۔ اس کے علاوہ دکانداروں سے بھاﺅ تاﺅکرنا ان کا ایک خاص مشعلہ تھا ۔

لیکن اب حیدرآباد کے کچھ بازاروں کی شکل تبدیل ہوگئی ہے اور حیدرآباد کی خاصی آبادی ان بازاروں کارخ کرنے لگی ہے۔ 2011سے2015حیدرآباد میں تقریباً 25سے زیادہ چھوٹے بڑے مارٹ کھل چکے ہیں ۔ جن میں پر چونی کا سامان گھر یلو سامان ، کپڑے برتن، بچوں کے کھلونے، گوشت پھل نیز ضروریات زندگی کا تمام سامان موجود ہے ۔ ایک خاص بات ان مارٹ اور مالز کی یہ بھی ہے کہ آپ یہاں اپنی پوری فیملی کے ساتھ با آسانی شاپنگ کرسکتے ہیں۔ ان مالز میں ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد کی ضرورت کی اشیاءدستیاب ہیں ۔ جو یہاں کی ایک خاص بات ہے ۔ اس کے علاوہ یہ مال سینٹر ل ا ے سی ہوتے ہیں۔ جس سے یہاں آنے والے خریداری گرمی سے محفوظ ہیں۔

ان مارٹ میں اگر آپ داخل ہوتے ہیں۔ تو اکثریہاں ایک گارڈ موجود ہوتا ہے جو آپ کے لئے دروازہ کھولتا ہے۔ جس سے آپ کو ایک خاص خوشی سی محسوس ہوتی ہے اور اس کے بعدآپ ایک ایسی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں اشیاءکی بھر مارہوتی ہے اور ان کو دیکھ کر اکثر لوگوں کا دل للچانے لگتاہے۔ یہ تمام اشیاءاس انداز اور اس سلیقے سے رکھی ہوتی ہیں ۔جو دیکھنے والے کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرتی ہے۔ یہاں سامان خریدنے کے لئے عام بازاروں کی طرح ادھر سے اُدھر بھاگنے کی ضرورت نہیں ۔ بلکہ ہر چیز کے لئے ایک خاص حصہ مخصوص ہوتاہے۔ جہاں اس چیز کی تمام قسمیں موجود ہوتی ہیں اور ہر چیز کے نیچے اس کے پیسے لکھے ہوتے ہیں اس کے علاوہ سیلز مین بھی موجود ہوتے ہیں جو آپ کو آپ کی خریداری میں مدد کرتے ہیں۔ ان تمام خریدی گئی چیزوں کو ٹوکری میں جمع کر کے کاﺅنٹر پر لے جایا جاتا ہے جہاں آپ کو ان خریدی گئی تمام چیزوں کے پیسے ادا کرنے ہوتے ہیں لیکن یہ کیشیئر ان پر چونی کی دکان پر موجود کیشیئر سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو پہلے چیزوں کی لسٹ بناتے ہیں پھر انہیں جوڑتے ہیں ۔بلکہ یہ کیشیئر ایک خاص مشین جسے بارکوڈ ریڈ کہتے ہیں اس کی مدد سے 2سے 3منٹ میں بہت سے اشیاءکا بل بنا کر آپکے ہاتھ میں تھمادیتا ہے اور آپ جلدی سے اسکی ادائیگی کر کے اپنے گھر روانہ ہوجاتے ہیں۔ اکثر مارٹ میں لوگوں کے لئے ریسٹورینٹ بھی کھولے گئے ہیں جہاں لوگ فیملی کے ساتھ کھانا بھی کھاتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں ۔

آجکل حیدرآباد کی خاصی آبادی ان مارٹ سے شوپنگ کررہی ہے جہاں ہر طبقے کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ مارٹ ہر چیز بڑی مقدار میں کمپنی سے خریدتے ہیں اس وجہ سے ان کو یہ چیز عام دکانداروں کے مقابلے میں خاصی سستی ملتی ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ یہ زیادہ تر چیزیں مارکیٹ ریٹ سے کم میں لوگوں کو مہیا کرتے ہیں یہاں ریٹ کے ساتھ ساتھ کو الٹی کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ تمام وہ جو بات ہیں جن کے بناءپر حیدرآباد کے لوگوں نے مارٹ اور مال کارخ کرنا شروع کردیا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان مارٹ اور شاپنگ مالز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے عام دکانداروں کی سیل پر بہت اثر پڑا ہے۔

اس طرح کے مارٹ اور شاپنگ مالز کا چرچہ اس وقت حیدرآباد میں عام ہونے لگاجب کراچی سے آنے والے لوگ میڑوشاپنگ مال کی تعریفیں کرنے لگے اور اکثر تویہ کہنے لگے کہ وہاں سوئی سے لیکر چہاز تک ہر چیز موجود ہے اس طرح حیدرآباد میں بھی اس طرح کے بازاروں سے شاپنگ کرنے کا شوق بڑھا اور یہاں تیری سے مالز بننا شروع ہوگئے۔ اس وقت حیدرآباد میں25سے زیادہ مارٹ اور مالز موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ بہت سے مالز کی تعمیر جاری ہے۔

Saud 

 2k14/MC/63


 ----------------------------------------- SECOND ATTEMPT------------------------------
Paragraphing is missing, which is must. See ur topic and pix, both are not matching with each other. u should have more pix
Now composing is ok . At least u should know what is spelling of feature. see how u spelled file name
محمد سعود شیخ 2k14/MC/63
فیچر

"حیدر آباد میں مارٹ اور مالز سے خریداری کا رجحان"

اکیسویں صدی میں دنیا میں بہت سی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہوئیں۔ مختلف طرح کی ایجادات ہوئیں اور انسان کو اس سے بے شمار فائدے حاصل ہوئے۔ ان تبدیلیوں کا انسانی زندگی پر بہت گہر اثر پڑ اور اس اپنی زندگی کے رہن سہن اور معاملات کو تبدیل کیا ۔ اس تبدیلی نے انسان کو خاصا آرام پسند بنا دیا اور انسان اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیئے آسان سے آسان راستہ تلاش کرنے لگا۔
اس ہی طرح کی تبدیلی حیدرآباد کے بازاروں میں 2010کے بعد آنا شروع ہوگئی ۔ یہ بازار مارٹ اور مالز میں تبدیل ہونا شروع ہوگئے ان بازاروں کی چمک دھمک میں اضافہ ہوگیا اور بے حد پر کشش ایک وقت تھا جب یہاں کے تمام لوگ اپنا ا گھریلوسامان خریدنے کے لئے پورے پورے بازار کے چکر لگاتے پھرتے تھے۔ حیدرآباد میں رہنے والے ایک شہری عزیز صاحب کے مطابق پہلے ایک دکان سے پر چونی کا سامان خریدنا پڑتا تھا اور اگلی مارکیٹ میں جاکر گوشت خریدنا پڑتا اور پھر فروٹ مارکیٹ جاکر فروٹ خریدنا پڑتا۔ اس تمام خریداری میں خاصاوقت ضائع ہوتا اور اکثر مارکیٹ میں رش اور گرمی کی وجہ سے لوگ پریشان ہوجاتے تھے۔ اس کے علاوہ دکانداروں سے بھاﺅ تاﺅکرنا۔ ان کا ایک خاص مشعلہ تھا لیکن اب حیدرآباد کے کچھ بازاروں کی شکل تبدیل ہوگئی ہے اور حیدرآباد کی خاصی آبادی ان بازاروں کارخ کرنے لگی ہے۔ 2011سے2015حیدرآباد میں تقریباً 25سے زیادہ چھوٹے بڑے مارٹ کھل چکے ہیں ۔ جن میں پر چونی کا سامان گھر یلو سامان ، کپڑے برتن، بچوں کے کھلونے، گوشت پھل نیز ضروریات زندگی کا تمام سامان موجود ہے ۔ ایک خاص بات ان مارٹ اور مالز کی یہ بھی ہے کہ آپ یہاں اپنی پوری فیملی کے ساتھ با آسانی شاپنگ کرسکتے ہیں۔ ان مالز میں ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد کی ضرورت کی اشیاءدستیاب ہیں ۔ جو یہاں کی ایک خاص بات ہے ۔ اس کے علاوہ یہ مال سینٹر ل ا ے سی ہوتے ہیں۔ جس سے یہاں آنے والے خریداری گرمی سے محفوظ ہیں۔ ان مارٹ میں اگر آپ داخل ہوتے ہیں۔ تو اکثریہاں ایک گارڈ موجود ہوتا ہے جو آپ کے لئے دروازہ کھولتا ہے۔ جس سے آپ کو ایک خاص خوشی سےی محسوس ہوتی ہے اور اس کے بعدآپ ایک ایسی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں جہاں اشیاءکی بھر مارہوتی ہے اور ان کو دیکھ کر اکثر لوگوں کا دل للچانے لگتاہے۔ یہ تمام اشیاءاس انداز اور اس سلیقے سے رکھی ہوتی ہیں ۔جو دیکھنے والے کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرتی ہے۔ یہاں سامان خریدنے کے لئے عام بازاروں کی طرح یہاں ادھر سے اُدھر بھاگنے کی ضرورت نہیں ۔ بلکہ ہر چیز کے لئے ایک خاص حصہ مخصوص ہوتاہے۔ جہاں اس چیز کی تمام قسمیں موجود ہوتی ہیں اور ہر چیز کے نیچے اس کے پیسے لکھے ہوتے ہیں اس کے علاوہ سیلز مین بھی موجود ہوتے ہیں جو آپ کو آپ کی خریداری میں مدد کرتے ہیں۔ ان تمام خریدی گئی چیزوں کو ٹوکری میں جمع کر کے کاﺅنٹر پر لے جایا جاتا ہے جہاں آپ کو ان خریدی گئی تمام چیزوں کے پیسے ادا کرنے ہوتے ہیں لیکن یہ کیشیئر ان پر چونی کی دکان پر موجود کیشیئر سے بالکل مختلف ہوتا ہے جو پہلے چیزوں کی لسٹ بناتے ہیں پھر انہیں جوڑتے ہیں ۔بلکہ یہ کیشیئر ایک خاص مشین جسے بارکوڈ ریڈ (Bar Code Reader)کہتے ہیں اس کی مدد سے 2سے 3منٹ میں بہت سے اشیاءکا بل بنا کر آپکے ہاتھ میں تھمادیتا ہے اور آپ جلدی سے اسکی ادائیگی کر کے اپنے گھر روانہ ہوجاتے ہیں۔ اکثر مارٹ میں لوگوں کے لئے ریسٹورینٹ بھی کھولے گئے ہیں جہاں لوگ فیملی کے ساتھ کھانا بھی کھاتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں ۔
آجکل حیدرآباد کی خاصی آبادی ان مارٹ سے شوپنگ کررہی ہے جہاں ہر طبقے کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ مارٹ ہر چیز بڑی مقدار میں کمپنی سے خریدتے ہیں اس وجہ سے ان کو یہ چیز عام دکانداروں کے مقابلے میں خاصی سستی ملتی ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ یہ زیادہ تر چیزیں مارکیٹ ریٹ سے کم میں لوگوں کو مہیا کرتے ہیں یہاں ریٹ کے ساتھ ساتھ کو الٹی کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ تمام وہ جو بات ہیں جن کے بناءپر حیدرآباد کے لوگوں نے مارٹ اور مال کارخ کرنا شروع کردیا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان مارٹ اور شاپنگ مالز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے عام دکانداروں کی سیل پر بہت اثر پڑا ہے۔
اس طرح کے مارٹ اور شاپنگ مالز کا چرچہ اس وقت حیدرآباد میں عام ہونے لگاجب کراچی سے آنے والے لوگ میڑوشاپنگ مال کی تعریفیں کرنے لگے اور اکثر تویہ کہنے لگے کہ وہاں سوئی سے لیکر چہاز تک ہر چیز موجود ہے اس طرح حیدرآباد میں بھی اس طرح کے بازاروں سے شاپنگ کرنے کا شوق بڑھا اور یہاں تیری سے مالز بننا شروع ہوگئے۔ اس وقت حیدرآباد میں25سے زیادہ مارٹ اور مالز موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ بہت سے مالز کی تعمیر جاری ہے۔

 --------------------------  FIRST VERSION ------------------

Referred back
Feature is laways reporting based and it major function is to intertain. therefore it should eb  written in interesting manner 
See ur composing. Is it readable?
fotos are also required
آ پ نے ”ی“ کے لئے” آئی “کے بجائے” وائی“ کی کی استعمال کی ہے۔ اپنی کمپوزنگ دیکھ لیں اور اسکو ٹھیک کریں

محمد سعود شےخ 2k14/MC/63 فےچر 
"حےدرآباد مےں مارٹ اور مالز سے خرےداری کا رجحان"

اکےسوےں صدی مےں دنےا مےں بہت سی تبدےلےاں تےزی سے رونما ہوئےں۔ مختلف طرح کی اےجادات ہوئےں اور انسان کو اس سے ے شمار فائدے حاصل ہوئے۔ ان تبدےلےوں کا انسانی زندگی پر بہت گہرا اثر پڑا اور اس اپنی زندگی کے رہن سہن اور معاملات کو تبدےل کےا۔ اس تبدےیل نے انسان کو خاصا آرام پسند بنادےا اور انسان اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے آسان سے آسان راستہ تلاش کرنے لگا۔ 
اس ہی طرح کی تبدےلی حےدرآباد کے بازاروں مےں 2010 کے بعد آنا شروع ہوگئی۔ ےہ بازار مارٹ اور مالز مےں تبدےل ہونا شروع ہوگئے ان بازاروں کی چمک دھمک مےں اضافہ ہوگےا اور بے حد پرکشش اےک وقت تھا جب ےہاں کے تمام لوگ اپنا گھرےلو سامان خرےدنے کے لئے پورے پورے بازار کے چکر لگانے پھرتے تھے۔ اےک دکان سے پر چونی کا سامان خرےدناپڑتا تھا اور اگلی مارکےٹ مےں جا کر گوشت خرےدنا پڑتا اور پھر فروٹ مارکےٹ جاکر فروٹ خرےدنا اور پھر فروٹ مارکےٹ جاکر فروٹ خرےدنا پڑتا۔ اس تمام خرےداری مےں خاصا وقت ضائع ہوتا اور اکثر مارکےٹ مےں رش اور گرمی کی وجہ سے لوگ پرےشان ہوجاتے تھے۔ اس کے علاوہ دکانداروں سے بھاﺅ تاﺅ کرنا۔ ان کا اےک خاص مشعلہ تھا لےکن اب حےدرآباد کے کچھ بازاروں کی شکل تبدےل ہوگئی ہے اور حےدرآباد کی خاصی آبادی ان بازاروں کا رخ کرنے لگی ہے ۔ 2011 سے 2015 حےدرآباد مےں تقرےباً 25 سے زےادہ چھوٹے بڑے مارٹ کھل چکے ہےں۔ جن مےں پرچونی کا سامان گھرےلو سامان، کپڑے برتن، بچوں کے کھلونے ، گوشت پھل نےز ضرورےات زندگی کا تمام سامان موجود ہے۔ اےک خاص بات ان مارٹ اور مالز کی ےہ بھی ہے کہ آپ ےہاں اپنی پوری فےملی کے ساتھ باآسانی شاپنگ کرسکتے ہےں۔ ان مالز مےں ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد کی ضرورت کی اشےاءدستےاب ہےں۔ جو ےہاں کی اےک خاص بات ہے۔ اس کے علاوہ ےہ مال سےنٹرل اے سی ہوتے ہےں۔ جس سے ےہاں آنے والے خرےدار گرمی سے محفوظ ہےں۔ ان مارٹ مےں اگر آپ داخل ہوتے ہےں تو اکثر ےہاں اےک گارڈ موجود ہوتا ہے جو آپ کے لئے دروازہ کھولتا ہے۔ جس سے آپ کو اےک خاص خوشی سی محسوس ہوتی ہے اور اس کےی بعد آپ اےک اےسی دنےا مےں داخل ہوجاتے ہےں جہاں اشےاءکی بھر مار ہوتی ہے اور ان کو دےکھ کر اکثر لوگوں کا دل للچانے لگتا ہے۔ ےہ تمام اشےاءاس انداز اور اس سلےقے سے رکھی ہوتی ہےں۔ جو دےکھنے والے کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرتی ہے۔ ےہاں سامان خرےدنے کے لئے عام بازاروں کی طرح ےہاں ادھر سے ادھر بھاگنے کی ضرورت نہےں۔ بلکہ ہر چےز کے لئے اےک خاص حصہ مخصوص ہوتا ہے۔ جہاں اس چےز کی تمام قسمےں موجود ہوتی ہےں اور ہر چےز کے نےچے اس کے پےسے لکھے ہوتے ہےں اس کے علاوہ سےلز مےں بھی موجود ہوتے ہےں جو آپ کو آپکی خرےداری مےں مدد کرتے ہےں۔ ان تمام خرےدی گئی چےزوں کو ٹوکری مےں جمع کر کے کاﺅنٹر پر لے جاےا جاتا ہے جہاں آﷲ کو ان خرےدی گئی تمام چےزوں کے پےسے ادا کرنے ہوتے ہےں لےکن ےہ کےشےئر ان پرچونی کی دکان پر موجود کےشےرسے بالکل مختلف ہوتا ہے جو پہلے چےزوں کی لسٹ بناتے ہےں پھر انہےں جوڑتے ہےں۔ بکہ ےہ کےشےراےک خاص مشےن سے بار کوڈ رےڈ (Bar Code Reader) کہتے ہےں اس کی مدد سے 2 سے 3 منٹ مےں بہت سے اشےاءکا بل بنا کر آپکے ہاتھ مےں تھما دےتا ہے اور آپ جلدی سے اسک یادائےگی کر کے اپنے گھر روانہ ہوجاتے ہےں۔ اکثر مارٹ مےں لوگوں کے لئے رےسٹورےنٹ بھی کھولے گئے ہےں جہاں لوگ فےملی کے ساتھ کھانا بھی کھاتے ہےں اور لطف انداز ہوجاتے ہےں۔ 
آجکل حےدرآباد کی خاص آبادی ان مارٹ سے شوپبنگ کررہی ہے جہاں ہر طبقے کے لوگ موجود ہوتے ہےں۔ کےونکہ ےہ مارٹ ہر چےز بڑی مقدار مےں کمپنی سے خرےدتے ہےں اس وجہ سے ان کو ےہ چےز عام دکانداروں کے مقابلے مےں خاصی سستی ملتی ہے اور ےہ ہی وجہ ہے کہ ےہ زےادہ تر چےزےں مارکےٹ رےٹ سے کم مےں لوگوں کو مہےا کرتے ہےں ےہاں رےٹ کے ساتھ ساتھ کوالٹی کا بھی خاص خےال رکھا جاتا ہے۔ ےہ تمام وہ وجوہات ہےں جن کے بناءپر حےدرآباد کے لوگوں نے مارٹ اور مال کا رخ کرنا شروع کردےا ہے اس بات مےں کوئی شک نہےں کہ ان مارٹ اور شاپنگ مالز کی تےزی سے بڑھتی ہوئی تعدادکی وجہ سے عام دکانداروں کی سےل پر بہت اثر پڑا ہے۔ 
اس طرح کے مارٹ اور شاپنگ مالز کا چرچہ اس وقت حےدرآباد مےں عام ہونے لگا جب کراچی سے آنے والے لوگ مےٹرو شاپنگ مال کی بڑی بڑی تعرےفےں کرنے لگے اور اکثر توےہ کہنے لگے کہ و ہاں سوئی سے لےکر چہاز تک ہر چےز موجود ہے اس طرح حےدرآباد مےں بھی اس طرح کے بازاروں سے شاپنگ کرنے کا شوق بڑھا اور ےہاں تےزی سے مالز بننا شروع ہوگئے۔ اس وقت حےدرآباد مےں 25 سے زےادہ مارٹ اور مالز موجود ہےں ۔ اس کے علاوہ بہت سے مالز کی تعمےر جاری ہے۔