Showing posts with label سائرہ. Show all posts
Showing posts with label سائرہ. Show all posts

Tuesday, 3 November 2015

قدرتی ٹانک

This is no way a feature
Composing in wrong format and with wrong keys. Plz get it corrected.
 Fature has one or otherway 5Ws and 1H. "Where" is missing.
 not دکانداروںbut gana machine
Main objective of feature is to entertain, it should be interesting should have some stories. This is no way a feature. Feature is always reporting based.    

سائرہ ناصّر2k14/MC/84
گرمی کے آتے ہی جگہ جگہ ٹھنڈے مشروبات کے ٹھےلے سج جاتے ہےں ۔ جہاں ٓم،تربوز اور لیموں سمیت مختلف پھلوں کے جوس دستےاب ہوتے ہےں ۔ شہری گرمی سے مقابلہ کرنے کے لئے شربتوں کا استعمال بھی بڑھادےتے ہےںتا ہم زےادہ تر شہرےوں کی ترجیح ٓج بھی سستا اور صحت کے لیے مفےد گنے کا جوس ہے ۔
گنے کا جوس بنانے والے دکانداروں کا کہنا ہے کہ گنے کا جوس وافر مقدار مےں پےا جاتا ہے ۔ گنے کے جوس مےں لیموں اور دیگر چیزیں ملانے سے اسکی افادیت اورذائقے میںاضافہ ہو جاتا ہے ۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ گنے کا رس صحت کے لئے مفید ہے ۔اس کے زےادہ استعمال سے نہ صرف جسم میںپانی کی مقدار کو برقرار رکھنے مےںمدد ملتی ہے بلکہ ہاضمہ کو بھی بہتر بناتا ہے ۔ 
گنے کا رس غذاےتی نقطءنظر سے بہت مفید ہے ۔ گنے کا رس کےلشےم ،کرومےم،کوبالٹ ،تانبے ،مےگنےشےم،فاسفورس ،پوتاشےم اورزنگ سے بھرپورہوتا ہے ۔ ےہ photonutrients،پروٹےن گھل نشےل رےشہ ،آئرن ،وٹامن اے،سی، بی 1 ، بی2 ،بی 3،بی5اور بی6 ےہ تمام تر غذائی اجزاءمل کر کام کرتے ہےں اچھے اور صحت مند جسم کو برقراررکھنے کے لئے ۔۔
 بے شمار فوائدکے مالک گنے کے رس کو ،گرمےوں مےں بہت شوق سے پےا جاتا ہے ۔ کےونکہ اس کو پےتے ہی فوراٍٍطاقت ملتی ہے ۔ گنے کا جوس صحت سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم میں کاربوہائڈرےٹ کا توازن برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ (اےنرجی بوسٹر)کا بھی کام کرتا ہے ۔
گنے کے جوس مےں پہلے ہی چینی کی مقدار کافی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود ذیابےطس کے مریضوں کے لئے بے حد فائدہ مند ہے۔ کےونکہ اس کی مٹھاس کی وجہ قدرتی چینی ہے جو glycemic کے ساتھ ہی خون میں گلوکوز کی مقدار کو قابو کرتا ہے ۔ ذےابیطس کے مریضوں کو اسکا استعمال ضرور کرنا چاہئے 
گنے کا رس جسم مےں موجود پروٹین کی مقدار کو قابو کرتا ہے ۔ گرمےوں مےں پیشاب کی نالی کے انفےکشن اور جلن جےسے مسئلوںکو گنے کا رس پی کر دور کیا جا سکتا ہے ۔ اور تو اور کوئی بھی خراب کھانے پےنے کا اثر سب سے ذےادہ گردے پر ہوتا ہے ۔ جس سے کئی بیمارےاں جنم لےتی ہےں ۔ ان سب سے چھٹکارا پانے کے لئے گنے کا رس نہاےت مفےد ہے ۔ 
گنے کے رس مےں موجود کےلشےم ، میگنےشےم،پوتاشےم ٓئرن جسم مےں الکالےن کی شکل مےںکام کرتے ہےںجس سے کےنسر ہونے کے امکانات کافی حد تک کم ہو جاتے ہےں ۔ تحقیق کے مطابق گنے کا رس پےنے سے کےنسر کا وائرس ہونے کا خطرہ کافی کم ہو جاتا ہے ۔ عورتوںمےں سب سے ذےادہ چھاتی کا کےنسر ہونے کاامکان بھی کم ہو جاتا ہے ۔
گنّے کا جوس antioxidents سے بھر پور ہوتا ہے جو جسم کے نظام استثنی کو سہی رکھتا ہے جگر کو انفےکشن سے بچانے کے ساتھ بلےروبن کی مقدار کو قابو کرتا ہے ۔ پےلےے کے مرےضوں کو ڈاکٹر گنّے کا رس پےنے کی تجویز کرتے ہےں۔
سانس کی بدبو کا مسئلہ ہو ےا مسوڑوں مےں درد ےہاں تک کے دانتوں سے متعلق کسی بھی طرح کی بیماری ےا دانتوں کی چمک کے لئے گنّے کا رس بے حد مفید ہے ۔
 وہ خواتین جو اپنی جلد کے لیے فکر مند رہتی ہیں انکے لیے خوش خبری کہ ماہرِامراض جلد کے مطابق صحتمند جلد کے لئے گنے میں موجود alpha hydroxy acid بہت ہی فائدہ مند ہوتا ہے ےہ کیل مہاسوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ جلد کو تر و تازہ رکھنے کا کام کرتا ہے ۔ اس سے چہرے پہ دکھنے والے بڑھاپے کو دور کےا جا سکتا ہے ۔ گنّے کے رس کو چہرے پہ لگانے سے کئی طرح کے مسئلے دور ہوتے ہےں ۔ گنّے کے رس کو ماسک اور جلد کی صفائی کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ نصف چائے کا چمچ گنّے کا رس، گلےسر ےن اور، عرق ِگلاب کا پےسٹ لگانے سے رنگ صاف ہوتا ہے اور چہرے کے داغ دھبے کم ہو جاتے ہیں۔
 کےلشےم کی کمی سے نہ صرف ہڈ یاں کمزور ہوتی ہےں بلکہ ہاتھ پیر کے ناخن بھی جلد ٹوٹنے لگتے ہےں اور ناخنوںکے درمےان سفید داغ دھبے پڑنے لگتے ہےںجس کے لیے ڈرمٹالوجسٹ گنّے کے جوس کی صلاح دےتے ہےں۔
 گنّے کے رس کے فوائد ایک طرف مگرپاکستان میں اسے اخذ کرنے کے انداز سے اس کا فائدہ، نقصان میں بدل جاتا ہے ۔ گنّے کے رس کوجس طرح نکالا جاتا ہے وہ حفظانِ صحت کے اصولوں کے خلاف ہے ۔ 
 گنّا کھےت سے کٹنے کے بعد مختلف جگہوں، گاڑیوں میں سفر کر کے دکاندار تک پہنچتا ہے جس کی وجہ سے اس پر ڈھےروں گندگی ،مٹی اور مکھےاں وغیرہ چپک جاتی ہےں ۔ گنّے کے ر س والے اسی گندے گنّے کو بار بار مشین میں ڈالتے ہےں اور سار ا گند رس میں شامل ہو جاتا ہے جو اسے فےضانِ صحت کے بجائے نقصان ِصحت بنا دیتا ہے ۔ معالج گنّے کارس زےادہ تر یرقان کے مریضوں کو تجویز کرتے ہیں ۔ جبکے گنّے کے رس والے تمام برتنوں کو ایک ہی بالٹی کے پانی مےں کھنگالتے ہیںجس سے یرقان کے مریض کے جراثیم دوسرے رس پےنے والوں مےں بھی منتقل ہو جاتے ہےں اورےہی وجہ ہے کے ےرقان کے مرےضوں کی شرح مےں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ 
  

Wednesday, 28 October 2015

Dr Nadeem Baig -Interview Saira

Oct 27 at 11:51 PM
انٹرویو     ڈاکٹر ندیم احمد بیگ
سائرہ ناصر
 2k14/MC/84


ڈاکٹر ندیم احمد بیگ نے 1997 میں لیاقت ینیورسٹی اف میڑیکل ہیلتھ اینڑ ساءنسس سے ایم بی بی ایس کیا14سالوں سے آپ حلال احمر میں اپنی خرمات انجام دے رہے ہیں۔ آپکا تعلق مڑل کلاس فیملی سے  ہے۔اور اس وقت اپنے ایک زاتی کلینک سے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں

سوال:  آپ نے طبی میدان کا انتخاب کیوں کیا ؟ 
جواب: میرے والد صاحب کا انتقال 1992 میں ہوا اور انکی بیماری کے باعث وفات ہونے کی وجہ سے والدہ کی خواہش تہی کہ ایک بیٹا ڈاکٹر بنے . لہذا میں نے اماں کی خواہش پوری کی اور ڈاکٹر بنا ورنہ میرا رجحان انجینیرنگ کی طرف تها

سوال: آپ نے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ایف سی پی ایس  نہیں کیا۔ وجہ ؟
جواب: میڈیکل کا شوق  نہ  ہونے کی وجہ سے اسکی مزید تعلیم پر تواجہ نہیں دی  مگر اپنے پیشے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی.

سوال: پاکستان میں میڈیکل یا معالجوں کا کیا مستقبل دیکھتے ہیں ؟
جواب:  اگر محنت لگن اور ایمانداری سے اپنے پیشے کو خدمت سمجھ کر کام کریں تو مستقبل تاریک نہیں ہوگا.

سوال: بجائے ڈاکٹر کے بار بار چکر لگانے اور مہنگی فیسوں کی وجہ لوگ اپنے معالج خود بنتے جا رہے ہیں، آپکا اسکے متعلق کیا کہنا ہے ?
جواب : مریض مرض کے انتہا تک پپھنچنے کے بعد ڈاکٹر کے پاس آتے ہیں  تکلیف کی شدت میں ڈاکٹر سے جلد آفاقے کی امید کرتے ہیں، اب ڈاکٹر کے پاس جادو کی کوئی چھڑی تو نہیں ہے نہ مرض کو جھٹ ٹھیک کر دے اسلئے وہ بہتر اور مکمل علاج کے لئے مریض کو بار بار بلاتا ہے.

سوال: لوگوں میں self medication(خود دوا) کا رجحان بڑهتا جا رہا ہے . اس کی کیا وجہ هے ؟ 
جواب: پیارے پاکستان کے حالات اس کے ذمیدار ہیں . غربت اس کی ذمیدار ہے. 

سوال: کچھ کیسز زندگی پر ااثرات مرتب کر جاتے ہیں، کیا آپکی زندگی میں ایسا کوئی کیس ہوا ہے ؟
جواب: ہاں ایسے کئی   واقعیات ہیں، ایک دفعہ ایک آٹھ سال کی بچی جسکی آنتوں پھٹ جانے کی وجہ سے پیٹ میں فاضل مواد جمع ہو رہا تھا اور تمام ڈاکٹرز ہار مان چکے تھے پر میں پیچھے نہیں ہٹا اورآپرییشن کیا اور بہت پے چیچیدگیوں کا سامنا کیا مگر ہار نہیں مانی  اور کیس حل کیا اور ماشالہ وہ بچی آج دو بچوں کی ماں ہے۔

سوال: کیا کبهی خود کار عمل کے بگڑے ہوے کیسسز کا سامنہ ہوا ؟ 
جواب: جی بہت ایسہے کیسسز آتے ہیں . تین دن سے ملیریا بخار کو عام بخار سمجھ کر خود علاج کرتی خاتون تین منٹ بھی صبر نہیں کر پا رہی تھیں کیوں کے خود کار عمل کی وجہ سے ملیریا بگڑ چکا ہےاور اب وہ زیادہ تکلیف کا شکار ہیں 

سوال: آجکل کونسی بیماری زیادہ پائ جاتی ہے ؟ 
جواب : بلڈ پریشر کا مرض زیادہ عام ہے اور ہائ  بلڈ پریشر اس میں زیادہ عام ہے یہاں تک کے میرے پاس ایک آٹھ سال کی بچی آئ جو کے ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سےفالج کا شکار تھیزیادہ تر ہائی بلڈ پریشر مردوں میں پایا جاتا ہے اور  مڈل ایج  خواتین میں لوؤ بلڈ پریشر عام ہے

سوال: ڈاکٹرز اکثر اپنے حقوق کے لئے ہڑتال پر چلے جاتے ہیں جسکا خمیازہ مریضوں کو بھگتنا پڑتا ہے، کیا آپکے مطابق یہ عمل درست ہے ؟۔
جواب: ہر انسان کی اولین خواھش ہوتی ہے کےاسکی زندگی میں آسائشیں ہوں جن کو کمانے کہ لئے ہی وہ دن رات محنت کرتا ہے اگر وہ حاصل نہ ہوں تو آواز بلند کرنا اسکا حق ہے مگر حق کی خاطر اپنے فرض کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ۔

سوال: بلڈپریشر سے بچاہ کے لۓ کن چیزوں کا خیال کیا جاۓ  ؟
جواب: چکنائ، کالسٹرول،فاسٹ فوڈ کا استعمال نہ کریں . پروٹین،وٹامن ، مچهلی کا استعمال اور روزانہ ورزش کریں

سوال : موسم سرما کی آمدکئی بیماریاں کی  ساتھ آمد ہے، اس سے بچاؤ کے لئے آپ کیا تجویز دیں گے ؟
جواب: گرم کپڑے پہنیں کان اور سینہ خاص طور پر ڈھانک کے رکھیں، موسم سرما میں ڈینگی کے ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں تو اس سے بھی بچاؤ کی تدبیر کریں۔

Tuesday, 6 October 2015

Profile of Imtiaz Ahmed by Saira


خود اعتمادی کامیابی  بنی- امتیاز احمد   

Profile by : SAIRA NASIR

2K14/MC/84


   مکمل جسمانی قوت کے ساتھ دنیاوی کامیابی حاصل کرنے والوں کو تو دنیا بہت سرآہتی ھے ۔مگر وہ لوگ جو جسمانی طور پر کمزور ہوں ، دنیا انہیں طـعنے دے دے کر موت کی گھاٹ اٌتار دیتی ھے یا پھر پستی کے اندھیروں  میں دھکیل دیتی ھے جہاں سے کامیابی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی مگر انہیں اندھیروں، کمزوریوں کو پار کر کے جو کامیابیوں کی راہ پر نکلتے ہیں اصل میں وہی لوگ تعریف اور سر آہنے کے قابل ہوتے ہیں۔ انہیں کی ایک مثال امتیاز احمد ہیں جن کا قد دو فٹ پانچ انچ ہے۔ جو اپنے نام سے ذیادہ ' بونے' یا 'کوڈو' کے نام سے جانے جاتے ہیں۔   انسان نہ ہی اپنی عمر سے بڑا ہوتا ہے، نہ عہدے ،قد، دولت، نسل یا جنس سے، انسان اپنی سوچ اور عمل سے بڑا ہوتا ہے اور امتیاز احمد کی سوچ نے ہی اںھیں قابل اور کامیاب انسان بنایا۔  

امتیاز احمد نے ۲۱ نومبر ۱۹۷۹ میں فیاز احمد کے گھر میں آنکھ کھولی۔ آپ کا تعلق کسی امیر و کبیر بالاسعی تعدد گھرانے سے نہیں تھا بلکہ آپ کی والد صاحب کی جوتوں کی دکان تھی۔ اس غریب گھر کے لیے آزمائش کی گھڑی تب آئی جب ڈاکٹر نے امتیاز احمد کی پیدائش پر خبر سنائی کہ بچہ معزور ہے اور چل پھر نہیں سکتا اور انہیں دو مہینوں کے لیے پاوں میں پلاسٹر لگا دیا گیا۔ آٹھ بہن بھائیوں میں امتیاز احمد کا نمبر سب سے آخری تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ تمام گھر والوں کی توجہ کا مرکز  بنے رہے۔ باقی بچوں کی طرح آپ بھی بچپن میں شرارتی تھے مگر پاوں کی کمزوری کے باعث آہستہ آہستہ کھیل کود کیا کرتے تھے۔  

   خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے 
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

آپ نے اپنی کمزوری کی وجہ سے بھیک کا پیالہ ہاتھ میں پکڑنے کے بجائے تعلیم پر توجہ دی اپنی قابلیت کا لوہا منوایا اور عزت و وقار والی زندگی جینے کو ترجیح دی۔ظاہری جسامت کمزور ہونے کے باٰعث پیدا ہونے والے مساءل کو نظر انداز کر کے آپنے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ سکول جانا شروع کیا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول سے حاصل کی پھر بی کام ڈگری کالج سے کیا اور ساتھ ساتھ DIT (Diploma in Information Technology) بھی کیا۔  امتیاز احمد کا اپنے والد کے ساتھ بے انتہا لگاو اور انکے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی وجہ سے آپ نے اپنے والد سے چشمے بنانے کا ہنر سیکھا۔ 
والدین بچوں کو انگلی پکڑکر چلانا سیکھاتے ہیں  پر ایک وقت آنے پر انھیں خود چلنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن امتیاز احمد اپنی جوانی تک اپنے والدن کی انگلی پکڑ کر چلتے تھے۔ آپ اور لوگوں کی طرح تیز رفتار نہیں لیکن آہستہ آہستہ چلتے ہیں کیونکہ آپکا ماننا ہے کہ ''آہستہ آہستہ ہی سہی مسلسل چلنا کامیابی کی ضمانت ہے''۔

'' ملیں گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاں اب انتظار ہے کب یہ کمال ہوتاھے'' اگر انسان کی لگن سچی ہو تو راستے میں آنے والے پتھر کو بھی اللہ تعالی پتھر کی مورتی بنا کر تقدس کا مقام عطا کر دیتا ہے۔ اور انسان کی لگن سچی ہو تو اللہ تعالی با عزت اور با شرف مقام عطا کر دیتا ہے۔ آپ کہتے ہیں :'' کہ جب میرے باقی ساتھیوں اور ہم عمروں کی شادیاں ہو رہی تھیں تب میں صبر کرتا تھا اور خدا پر توکل کرتا تھا۔ کیونکہ آپکی والدہ ہمیشہ دلاسہ دیتی تھیں اور کہتی تھیں کہ مٹی والا جب مٹی کے سارے برتن لے کر بیچنے نکلتا ہے تو پہلے اعلی اعلی اور خوبصورت برتن بک   جاتے ہیں لیکن آخر میں وہ برتن بھی بک جاتا ہے جو تھوڑا defected  ہوتا  ہے۔ آپ نے اپنی والدہ کی اس مثال کو زندگی کا اہم حصہ بنا لیا اور اپنے نصیب میں بہتری کا انتظار کیا۔
خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں،جسمانی ساخت کے نا مناسب ہونے کے با وجود
 اللہ نے انکو زندگی کا ساتھی انکی مرضی اور منشا کے مطابق عطا کیا۔ اور زندگی کے ساتھی کے ساتھ ساتھ اللہ نے انھیں دو بچے بھی عطا کیے جو انکی دیکھ بھال میں انکا ساتھ دیتے ہیں جنہوں نے آپکو بھرپور زندگی کا احساس دیا۔ آپکے پہلے بیٹے کی پیدائش پر خدا نے آپکو سرکاری ملازمت سے نوازا۔ جس کی joining  کے لیے آپ کو کراچی جانا پڑا۔ خدا کا نام لے کر اور حوصلہ بلند کر کے ڈھائی فٹ قد کے ساتھ جن مشکلات کا سامنا کر کے آپ صبح لوکل بس کا سفر کرتے تھے۔ جہاں بہترین جسامت کے لوگ بھی ہار جاتے ہیں وہاں آپ نے روزانہ سفر طے کر کے پیسا کمایا ور انتھک محنت کر کے اپنا تبادلہ حیدرآباد میں کروایا۔ آپ آج کل ایف جی اسکول کے کمپیوٹر سیکشن میں ہوتے ہیں۔
حادثے بھی شعور رکھتے ہیں
ڈھونڈھ لیتے ہیں غم کے ماروں کو

زندگی کے اتنے امتحانات کے با وجود آزمائشیں آپکا در نہیں بھولی اور ایک اور امتحان آپکی اولاد بنی جب پتاہ چلا کہ آپکا چھوٹا بیٹا بھی آپکی طرح معزوری کا شکار ہے، اور چل پھر نہیں سکتا آپ اپنے بیٹے کے ہر طرح کے علاج کے لیے کوشاں ہیں  اس عزم کے ساتھ کہ:'' زندگی میں جو لوگ کوشش نہیں کرتے،وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے ''

 امتیاز احمد سے جب پوچھا گیا کے آئینے میں خود کو دیکھ کر کیا آپکو خدا کی ذات سے شکایت نہیں ہوتی؟؟
آپ مسکرائے اور سیرت کی خوبصورتی کو صورت کی خوبصورتی پر ترجیح دیتے ہوئے جواب دیا کہ: خوبصورتی کی کمی کو اخلاق پورا کر سکتا ہے مگر اخلاق کی کمی کو خوبصورتی پورا نہیں کر سکتی۔ 
امتیاز احمد معاف کر دینے اور جلد کسی کے برے سلوک اور برے عمل کو بھول جانے کی عادت کے مالک ہیں آپ بتاتے ہیں کہ آپکے نا مناسب قد ہونے کے باعث آپکے بہن بھائی اکثر کم ظرفی کا مظاہرہ کر جاتے ہیں اور آپکی حق تلفی کر جاتے ہیں لیکن آپنے انکی ان باتوں کو کبھی دل میں نہ رکھا بلکہ ہمیشہ معاف کر دیا کیونکہ آپکا ماننا ہے کہ  معاف کر دینے سے آپکی اپنی روح پاک ہو جاتی ہے ۔ آپکے اعلی اخلاق اور اچھی خوبیوں کی وجہ سے آج آپکے گرد والدین کی سر پرستی نہ ہونے کے باوجود بھی بہن بھائیوں، دوستوں، علاقے،دفتر کے لوگوں اور پیاروں کا ہجوم ہے۔ جو آپکو کبھی مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑتے اور آپکی ہر آن مدد کرتے ہیں ۔ 

آپکا پسندیدہ مشغلہ  Hollywood Action Movies دیکھنا ہے۔ آپکا کہنا ہے کہ انگریزی ایکشن فلموں میں ایک ٹرگٹ ہوتا ہے جس کو وہ تمام  مشکلات اور سنگین تر مراحل کو پار کر کے حاصل کرتے ہیں اور بار بار ناکام ہونے کے باوجود آخر کار کامیابی حاصل کر ہی لیتے ہیں۔ آپ بھی جب مایوس  یا دلبرداشتہ ہوجاتے ہیں تو ان فلموں سے سبق لیتے ہیں اور پھر نئے عزم اور امید کے ساتھ آگے لے کر چلتے ہیں کہ اگر حوصلے بلند ہوں تو ہاری ہوئی بازی بھی جیتی جا سکتی ہے اور اگر عزم و ہمت سے کام لیا جائے تو مسلط ہوتی ہوئی شکست بھی فتح میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔۔۔


October 2015 BS-II
Practical work carried out under supervision of Sohail Sangi
Department of Media and Communication Studies, Sindh University