Showing posts with label سدرہ خالد. Show all posts
Showing posts with label سدرہ خالد. Show all posts

Tuesday, 3 November 2015

Jamshoro by Sidra Khalid

This is not Feature. Very poorly written. what was ur exact topic?  u did  not featurised it. feature is alwasy reporting based and its main purpose is entertainment. foto is also required. U should also write ur name in urdu at the top. U again sent main without subject. What was exactly ur topic????
                                                                                       Sidra Khalid
                                                                                                                                                                             Roll#2k14-Mc-120                                                                                                             B.S-II

    
                                  جامشورو
جامشورو ضلع سندھ  کا بڑا حصہ ہے۔ 2004 دسمبر میں ضلع جامشورو کو ضلع دادو سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اور اب ضلع جامشورو بطور ایک شہر جیسا رتبہ رکھتا ہے۔ ضلع جامشورو  تین تعلقاؤں پر مشتمل ہیں: سیہون، کوٹری اور منجھند۔ دریاۓ سندھ کے دائیں کنارے پر واقع ہے۔  ضلع جامشورو سندھ بھر میں تعلیم یافتہ شہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ جامشورو میں پاکستان کی تین بڑی یونیورسٹیاں  " سندھ یونیورسٹی، مہران یونیورسٹی، لیاقت میڈیکل یونیورسٹی  واقع ہیں، جو ہر سال آئ-ٹی پروفیشنلسٹز، جرنلسٹز، آرٹسٹز، انجینئیرز، ڈاکٹرز پیدا کرتی ہے۔ تعلیمی حوالے سے ایک اہم رتبہ رکتھا ہے جامشورو، سندھ بھر میں۔ جامشورو میں ہاسٹل کی سہولت بھی موجود ہے جو دور دراز سے آۓ ہوۓ اسٹوڈنٹز اور ٹیچرز کو رہائش اور دیگر سہولیت مہیا کرتا ہے۔ ٹیچرز کی رہائش کے لیے کالونی کا انتظام بھی ہے ۔  جامشورو میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ موجود ہے جو صوبے بھر کی نصابی کتابیں شائع کرتا ہے۔  
 جامشورو میں پاور پلانٹ موجود ہے جو پاکستان کے لیے 850 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ اور کئ شہروں کو فراہم کرتا ہے۔
 جامشورو  ایک اور مقام کی وجہ سے بھی مشہور  ہے جو المنظر کہلاتا ہے۔ کوٹری بیراج  پہ واقع المنظر ہوٹل حیدرآباد اور شہر سے باہر کی عوام بھر میں مقبول ہے۔ پلہ مچھلی کھانے دور دور سے لوگ آتے ہیں۔اور جب موسم میں نکھار آتا ہے تو لوگوں کا رش قابل دید ہوتا ہے۔ جامشورو کی ہوائیں ملک  بھر میں مشہور ہیں۔ جو دماغی اعصاب کو فرحت بخشتی ہے۔  جامشورو ایک پر سکون جگہ ہے۔صاف ماحول ہیاں رہنے والوں کی صحت پر اچھا اثر ڈالتا ہے۔ جامشورو ہواوؤں کا شہر کہلاتا ہے۔
جامشورو پہاڑی سلسلے پر واقع ہے جسے مہرہ جبل کہتے ہیں۔ جامشورو کا علاقہ بنجر ہی سہی مگر دیکھنے والوں کو لبھاتا بہت ہے۔ بیشمار شاعروں نے جامشورو کے پہاڑوں پر شاعری کی۔ اکثر شاعروں کو سورج کا پہاڑوں کے پیچھے چھپنے کا انداز بھایا اور اسی ادا پہ شاعری کی۔
جامشورو الن فقیر اور اس کی خوبصورت آواز کے لیے بھی مشہور ہے۔ آج بھی جامشورو کی فضاؤں میں الن فقیر کی آواز گونجتی ہے ۔الن فقیر اور جامشورو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔  جامشورو کا ذکر الن فقیر کے بغیر مکن ہی نہیں 
جامشورو میں بطور ایک شہر ہر سہولیات موجود ہے۔ سودا سلف سے لے کر سبزی پھل تک، ال-ایم-سی سے لے کر میڈیکل اسٹور تک، بینک ہو یا یوٹیلٹی اسٹور، اعلی سے اعلی تعلیمی ادرہ جامشورو میں موجود ہے۔ضرورت کی بنیادی چیزیں جامشورو میسر کرتا ہے۔
  جامشورو ایک ترقی یافتہ ٹاؤن تو کہلایا جاسکتا ہے پر ترقی یافتہ شہر نہیں۔ اس کے ارد گرد غیر ترقی یافتہ گاؤں موجود ہیں۔  بات اگر جامشورو کی ترقی کی جاۓ تو اسے کافی عرصہ  لگ سکتا ہے کیونکہ جامشورو سے تو ہر کوئ استفادہ  اٹھالیتا ہے مگر جامشورو کو کوئ فائدہ نہیں دیتا۔ 


Sunday, 25 October 2015

Interview of Anwar Figar by Sidra Khalid

شاعر بغیر عشق کے شاعری نہیں کرتا۔ ڈاکٹر انور فگار ھکڑو
سدرہ خالد
BS-II

ڈاکٹر انور فگار ھکڑو کا تعلق شکارپور سے ہے۔ اپریل 1961 آپ کی تاریخ پیدائش ہے۔ سندھ یونیورسٹی سے ایم-اے سندھی اور سندھی لٹریچر میں پی-ایچ-ڈی کی۔ آپ ایک نامور مصنف ہیں ۔ آپ کا قلمی نام 'انور فگار' ہے۔ آپ نے17کتابیں اور100 مقالات لکھے ہیں۔ آپ کی کتاب 'شیخ ایاز فن اور شخصیت' پاکستان اکیڈمی لیٹرز سے شائع ہوئ۔ آپ گولڈ میڈلسٹ ہیں ۔ سندھی ڈپارٹمنٹ، یونیورسٹی آف سندھ کے چئیرپرسن ہیں۔ 

سوال:آپ کو لکھنے پڑھنے کا شوق کس عمر سے ہوا؟
جواب:میں ایک ادبی گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرے دادا عبدالرحمّن صاحب بھی استاد رہ چکے ہیں اور آپ انگریزی میں ایک میگزین میں لکھا کرتے۔ ہمارے خاندان کے ادیب نگاروں سے تعلقات تھے۔ میرے والد محمد صدیق بھی سندھی میں لکھتے تھے۔ ہمارے گھر میں ایک لائبریری تھی جہاں سندھ کے ادیبوں کی کتابیں موجود رہیں اب تو وہ خستہ حالت میں ہے کہ دکھا بھی نہیں سکتا۔ بہرحال میں جب چھوٹا تھا اکثرو بیشتر فارغ اوقات  میں اس لائبریری کا رخ کرتا وہاں جاکر مجھے ذہنی سکون ملتا۔اسی لائبریری نے میرے ذوق کو ابھارا اور مجھے انہی کتابوں نے اپنی طرف راغب کیا۔ کم عمری سے ہی کتابیں میری دوست بن گئیں ۔ اسی وجہ سے مجھے لکھنے کا اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہوا۔

س: پہلی کتاب کب لکھی؟
ج :ء1978 میں نے لکھنا شروع کیا۔ 

س : تعلیمی سفر میں کہیں مشکلات سے ہمکنار ہوۓ؟
ج: بی بی؛زندگی کا سفر آسان نہیں۔ میرے والد صاحب 1969میں انتقال کر گۓ۔اس کے بعد میں نے مزدوری کی اور پڑھائ بھی جاری رکھی۔انٹر کرنے کے بعد حالات بہت تنگ ہوگۓ۔ کچھ عرصے کے لیے پڑھائ کا ساتھ چھوڑ دیا ، مگر اللہ کا بڑا کرم ہوا ،میں نے ٹیچنگ شروع کردی۔ اور سندھ یونیورسٹی  سے ایم-اے سندھی کیا، اور سندھی لٹریچر میں پی-ایچ ڈی کی، اور ساڑھے تین سال میں اپنا تھیسس مکمل کیا اور آج بھی میرا تھیسس ''شکارپور شہر کا سندھی ادب میں حصہ'' سندھیولوجی میں موجود  ہے۔  بات  میرے لیے باعث فخر ہے۔انسان تین چیزوں کی  وجہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا : مصیبت میں، مشکلات میں اور عشق
میں۔  بس ان تین چیزوں کو خود پہ حاوی مت ہونے دینا۔

س : آپ کی کتابوں کا موضوع کیا رہا؟ اور کونسا دل کے قریب رہا کچھ وضاحت کریں گے؟
ج : میرے موضوعات شکارپور، صحافت ، تنقید وجائزہ  اور شیخ ایاز رہے۔ اور انھی سے مجھے زیادہ لگاؤ رہا۔ 
شکارپور میرا آبائ شہر ہے،اس سے میری دلی اور ذہنی وابستگیاں ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں ایک سے بڑھ کر ایک ادیب ہے۔ شکارپور سے مجھے بےحد انسیت ہے۔ وہاں کے لوگوں کے پاس بہت علم ہے۔اس پر لکھنا ،ریسرچ کرنا مجھے اچھا لگتا ہے۔
شیخ ایاز صاحب نامور شخصیات میں سے ہیں۔ اور شاھ عبدللطیف کے بعد آپ سندھ کے دوسرے بڑے شاعر رہے۔   ان کے ساتھ زندگی کا قیمتی وقت گزارا ہے۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اس زمانے میں وہ سکھر میں رہتے تھے تو ان سے مجھے بار بار ملاقات کا شرف حاصل رہا۔ مجھے بہت شعور رہا لکھنے پڑھنے کا اور کافی معلوماتی تبادلہ ہوتا تھا میرے اور شیخ صاحب کے درمیان ۔ جہاں میں ان سے متاثر تھا کہیں نہ کہیں وہ بھی مجھ سے متاثر رہے۔ اور شیخ صاحب  کی شخصیت ہی اتنی متاثرکن ہے کے ان پر لکھنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ان پر میں نے  تین کتابیں لکھیں، ایک کتاب میری اردو سندھی میں ہے ''شیخ ایاز: فن اور شخصیت"   اور ایک سندھی میں:" شیخ ایازایک منفرد قلمکار"ہے۔
'صحافت' چونکہ میں نے اس لیے چنا کیونکہ میں خود اس پیشے ميں رہا ہوں اور اس موضوع سے کافی روشناس ہوں ۔ میں جرنلسٹ رہ چکا ہوں مگر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ والوں نے یہ کہہ کر نکال دیا کہ سرکاری ملازم جرنلسٹ نہیں بن سکتا ۔ مجبوری کے تحت صحافت چھوڑدی۔ اور" شکارپور جي صحافتي تاریخ " میرا ریسرچ ورک ہے۔ جو میں نے اس پیشے سے سیکھ کے لکھا ہے۔

س : ایسی کوئ کتاب جو ادھوری رہ گئ ہو؟
ج :ہاں بلکل ۔ایسی کیفیت ہوتی ہے کبھی کبھی دل ہوتا ہے کہ اب نہیں لکھا جارہا مگر اس اثر سے بھی نکلنے کا ایک طریقہ ہے میں جب امید چھوڑتا ہوں تو  شیخ ایاز اور دیگر معلوماتی  کتابیں پڑھنے لگتا ہوں۔ لیکن شیخ صاحب کی کتابیں مجھے موٹیویٹ  کرتی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے میں اپنی کتاب کبھی ادھوری نہیں چھوڑتا۔ ہاں بس ایک کتاب ادھوری چھوڑی جو میری بائیو گرافی تھی جسکا عنوان تھا :''یہ کتاب کوئ نہ پڑھے''۔ اور وہ نجانے کہاں گم ہوگئ پھر میرا دل نہیں کیا خود پہ کچھ لکھنے کو۔

س : شروع سے ہی مصنف بننا چاہتے تھے؟ کبھی ڈاکٹر یا انجینئر بننے کا نہیں سوچا؟
ج : ڈاکٹر بننا چاہتا تھا مگر حالات کے آگے بےبس تھا۔ والد کے گزر جانے پر مجھے لگتا تھا کہ میں کسان یا مزدور بن جاؤںگا، اللہ میری والدہ کو جنت نصیب کرے انھیں اتنا شعور تھا کہ جب میں انکی گود میں اپنا سر رکھتا تو اپنا سارا علم بھول جاتا بس ان کو سنتا ان کے علم سے استفادہ اٹھاتا۔ ان کے ایک استاد تھے اور بڑے بڑے عالموں کی صحبت کی بدولت وہ اتنا کچھ جانتی تھی۔ اور میں نے پی-ایچ-ڈی کی ہے ڈاکٹر تو میں بن گیا۔

س :سندھ میں سندھی صحافت کا کیا رجحان تھا آزادی سے پہلے؟ اور اس کا اتنا تذکرہ کیں نہیں جتنا اردو اور ہندی صحافت
 کا ہے؟
ج :سندھی صحافت سندھ کا بہت اہم حصہ رہا ہے آزادی سے پہلے۔ اردو صحافت بھی پری پارٹیشن سے پہلے کافی اہم رہی اور ہندی صحافت بھی۔ شکارپور میں اسکولوں میں  صحافت کا تذکرہ کیا جاتا تھا ۔شیخ صاحب اور میرے والد صاحب دونوں ہی اس موضوع کا حصہ رہے ہیں اور لکھا بھی کرتے تھے۔افسوس کی بات ہے سندھی صحافت کو کسی نے وہ مقام نہیں دیا جو دینا چاہۓ تھا۔ پارٹیشن کے بعد بہت نقصان ہوا۔ 

 س :شاعری سے لگاؤ ہے، کس مزاج کی شاعری کرتے ہیں؟
ج : شاعری سے مجھے بہت لگاؤ رہا ہے۔ ایسی کیفیت کا طاری ہونا جس میں انسان ڈوب جاۓ  مجھے اس کیفیت میں رہنا پسند ہے۔ کراچی میں مشاعروں کی محفلوں میں اکثر جانا  ہوتا تھا۔ پروین شاکر اور فیض احمد فیض سے بھی سامنا ہوا کرتا تھا۔ میں عشق و عاشقی اور تصوف جیسے موضوعات پر لکھتا ہوں۔ ایک شعر میں نے شیخ صاحب کی بھی خدمت میں کچھ یوں پیش کیا: 
تو اللہ اکبر،میں انور فگار           پجاریون غزل مھنجو، تھنجو کتاب
اس پر آپ نے کہا کہ ایسی شاعری مت کیا کرو۔ مگر مجھے اسی طرح کی شاعری کا شوق ہے۔ 

س : عاشقانہ مزاج رہا شاعری کا انداز، کبھی کسی سے عشق ہوا؟
جواب:شاعر بغیر عشق کے شاعری نہیں کرتا۔ ہاں عشق ہوا تھا،اسی عشق کے لیے شاعری بھی کی۔ شاعر کی فطرت میں ہے عشق کرنا، کبھی اسے پالینا یا کبھی وہ تڑپ بس دل میں ہی دبا لینا اور اشعار کی صورت میں پیش کرنا ایک شاعر کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ یہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوا۔ 

سوال: موسیقی سے لگاؤ، کس قسم کا ذوق ہے؟ 
ج : بلکل لگاؤ ہے۔ ذہنی تھکاوٹ دور کرتا ہے۔ مجھے کلاسیکل موسیقی زیادہ پسند ہے۔ 

س :کبھی اپنی آواز کو آزمایا؟ کوئ ساز بجانا آتا ہے؟
ج :جی بلکل گانے کا شوق رہا، اسکول کالج میں اپنی آواز آزمائ، ہارمونیم بھی بجایا مگر جب پی-ایچ-ڈی کرنے لگا تو ان سب سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

س :ایک لکھاری سارا دن لکھنے میں مصروف ہوتا  ہے کبھی گھروالوں نے کوئ شکوہ کیا؟
ج :یہ میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں کام کے دوران میں انھیں وہ وقت نہیں دے پاتا جو اس وقت دینا چاہيے ہوتا ہے۔شکوہ انھوں نے نہیں کیا  کیونکہ وہ میرے شوق سے بخوبی واقف ہیں۔ میرے شوق کی حد بھی ایسی ہے کہ میں ان کے ساتھ ہوکر بھی وہاں موجود نہیں ہوتا، میرا سارا دماغ کسی نہ کسی سوچ میں مشغول رہتا ہے۔ اس معاملے میں مجبور ہوں میں۔

سوال: آپ کی کسی اولاد میں لکھنے کا شوق آیا؟
جواب: نہیں میری کسی اولاد میں یہ شوق نہیں آیا۔اور نہ میں نے ان میں زبردستی یہ شوق ڈالا۔ بلکہ میں سپورٹ کرتا ہوں انکو ان ہی کے شوق میں۔

س: لکھنے کے علاوہ کیا معمول ہے آپ کا؟
ج : فی لحال لکھنا ہی میرا معمول ہے۔ مگر کبھی کبھی دل کرتا ہے مناسب تو نہیں کہنا پر۔۔۔ آوارہ گردی کرنے کو، یوں ہی باہر ٹہلنے کو، مشاہدہ کرنے کو، خود سے باتیں کرنے کو۔ ان سب کو بھی اپنا معمول بنانا چاہتا ہوں۔


س : سندھی ڈپارٹمنٹ کا چئیرپرسن بناگیا آپ کو؟ کیسا محسوس کرتے ہیں؟
ج : یہ بہت بڑی ذمیداری ہے ۔ میری بس خود کے لیے دعا ہے خداوند کریم مجھے ثابت قدم رکھے۔ کیونکہ میں اپنے ضمیر کے آگے بھی جوابدہ ہوں اور خدا کے آگے بھی۔ بس مجھے جو ذمیداری دی ہے میں اس میں ایماندار رہوں۔ ميں بہت خوشی محسوس کرتا ہوں خدا نے مجھ پہ اتنی رحمت کی ہے۔

س :کوئ ایسی چیز جسے پانے کی چاہ ہو؟
ج : پایا میں نے سب کچھ ہے جو بھی میں نے چاہا ہے۔ اب بس خود کو پانے کی چاہ ہے،خود کو تلاش کرنا چاہتا ہوں، دیکھنا چاہتا ہوں کہ میں کیا تھا اور کیا ہوں اب تک۔ میرے نزدیک ایسا ہے جس نے خود کو ڈھونڈ لیا، تو سمجھو اس نے خدا ڈھونڈ لیا۔

س :معاشرے میں آپ کو کیا مقام حاصل ہے؟
ج: اپنا مقام میں خود نہیں بتاسکتا،البتہ سماج بہت عزت دیتا ہے۔ اور اس میں اللہ کا شکرگزار ہوں میں۔

س : ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کا کیا ارادہ ہے؟
ج : اگر میں زندہ رہتا ہوں تو یہی کام کرونگا جو اب تک کرتا آرہا ہوں۔میری نظر میں ریٹائرمنٹ کے بعد والی کؤی زندگی نہیں۔ اور پروفیسر کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔

س : آپ ہم اسٹوڈنٹز کے لیے کچھ نصیحت کریںگے؟
ج : میں یہ کہوں گا کہ استاد ایک چراغ کی مانند ہے،وہ آپ کو علم کی ایک کرن دکھاتا ہے،منزل سے آگاہ کرتا ہے، اس منزل کا راستہ آپ کو تلاش کرنا ہے اپنی محنت اور لگن سے۔استاد کو کسی معاملے میں یہ نہ کہنا کہ آپ نے بتایا نہیں،ہم نے کیا نہیں۔ علم کا سمندر بہت گہرا ہے۔ اس سمندر میں خود اترو اور اسکی گہرائ کا اندازہ لگاؤ۔
This practical work was done under the guidance of Sir Sohail Sangi, at Department of Media and Communication Studies, University of Sindh.

Friday, 2 October 2015

Naseem Tariq profile by Sidra Khalid


پروفائیل پرو فیسر نسیم طارق 
 تحریر : سدرہ خالد                   

علم ایک ایسی طاقت ہے جو گرے ہوئے کو بھی کھڑا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جس کے پاس علم نہیں اس کی زندگی میں ترقی کے اتنے مواقع نہیں۔زندگی کے ہر موڑ پر تعلیم ڈھال کی طرح ہے۔جس نے اس سے استفادہ اکرناا اسی نے اپنا مقصد پا لیا۔ ایسے ہی تعلیم اور محنت سے آگے بڑھنے اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی ریٹائررڈ اسسٹنٹ پرو فیسر نسیم طارق ہیں ۔ وہ 1955ءسکھر میں پیدا ہوئیں۔ان کے خاندان میں عورتوں کو اعلی تعلیم دلانے کا رواج نہ تھا۔

 میٹرک کے بعد نسیم کو والدین نے گھر بٹھا دیا مگر پڑھنا اور آگے بڑھنے کے جنون کی وجہ سے انہوں نے کسی کی نہ سنی ۔ والد صاحب سے ضد کر کے کالج میں داخلہ لیا۔ والد صاحب آپ کے معمولی پیشہ ور آدمی تھے آمدنی اتنی نہ تھی کہ دس افراد کا تعلیمی خرچہ اٹھا سکتے۔دو وقت کی روٹی میسر ہوجاتی کافی تھا۔ چونکہ آپ سب میں بڑی تھیں اور گھریلو حالات سے واقف تھیں تو آپ نے والد کے ساتھ مل کر کم عمری میں گھر کی ذمہ داری اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ 

میٹرک کے بعد پڑوس کے بچوں کو ٹیوشنز دیتی اور ملنے والی رقم آدھی گھر میں دیتی بقایا پیسوں سے اپنی کتابیں اور فیسیں ادا کرتیں۔طرح طرح کی نوکریاں کیں۔ وہ غربت بھری زندگی سے نکلنا چاہتیں تھیں۔ وہ معاشرے میں عزت والا مقام چاہتی تھیں۔ اپنا حال بدل کر مستقبل بہتر بنانا چاہتی تھیں۔ اور اس کے لیے آپ ںے دن رات ایک کر دیے۔  

 کالج آپ نے اعلی نمبروں سے پاس کیا تو بی-ایڈ کرنے کے لیے اپلائی کردیا۔ اوریہیں سے ٹیچینگ کے سلسلے کا آغاز ہوا۔

 بہن بھائیوں کی تعلیم کا ذمہ آپ نے اٹھایا۔ آپ کا سوچنے کا انداز اپنے گھر والوں سے منفرد تھا۔نسیم میں احساس ذمیداری تھا، آگے بڑھنے کی لگن تھی۔ آپ ہی کی بدولت گھر کا نظام بدلا۔اتنا کچھ کرنے کہ بعد آپکی امید اور برھتی گئی۔ آپ کو واپڈا اسکول میں بطور ٹیچر منتحب کیا۔ترقی کے سفر کا آغاز ہوا۔ اپنے پیشے کے ساتھ سنسئر رہی خوب محنت سے پڑھاتی اور آپ کے اسٹوڈنٹز کی بہترین کارگردگی کی وجہ سے اسکول انتظامیہ نے پرنسپل بنانے کے لیے منتخب کیا۔ 
 نسیم کے لیے یہ بے انتہا خوشی کی بات تھی۔ اپنی اسپیچ میں آپ نے سب کو یہی کہا " غریب ہونا میری قسمت میں تھا ، پر میرا مقدر نہیں۔ انسان خود زندگی سنوارتا اور بگاڑتا ہے۔ اور مجھے خود کو سنوارنا تھا" علم کے زیور سے۔

 ہسٹری میں ماسٹرس کرنے کے بعد واپڈا کالج ،گڈو میں پروفیسر ہو گئیں۔ اس وقت آپ واحد عورت تھیں جنھیں جونئیر پروفیسر بنا گیا۔ آپ کے لیے یہ اعزاز کی بات تھی۔ وہ بتاتی ہیں کہ اتنی سفارشوں والوں میں میرا نام میرٹ پہ آنامیری محنت کا نتیجہ ہے جو میرے پروردگار نے مجھے نوازا ہے۔ 

 آپ جس گھرانے سے تعلق رکھتی ھیں وہاں عورتوں کا اس طرح مردوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کام کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا، مگر ایسے لوگ کبھی آگے نہیں بڑھتے جو زمانے کی پرواہ کریں۔ اسی سوچ اور روایت کو آپ نے بدلا ، آپ نے اپنی محنت جاری رکھی۔
آپ ہر ایک کے لیے ہمدرد رہیں چاہے اپنے ہوں یا پرائے۔نسیم اپنے اصل مقصدسے واقف ہیں،اسی محنت کی وجہ سے آسمان کی بلندیاں بھی چھو لی ، اور زمین پر اپنے جیسون کی مدد بھی کرنا جاری رکھا۔ 

اسی اثناء میں انہوں نے ان طالبعلموں کو مفت تعلیم دی اور ان کے دیگر تعلیمی اخراجات بھی خود اٹھائے ۔ آپ کو یہ ہر گز گوارہ نہ تھا کہ غربت جیسی مجبوری کے آگے کسی کے خواب نہ بکھر جائیں۔ ان کے خوابوں کو پورا کرنے کی آپ نے ہر وہ ممکن کوشش کی جو ایک استاد اپنے شاگروں کے لیے کرتا ہے۔

آج آپ ہی کے توسط سے بے شمار ہونہار طالبعلم ترقی کی سیڑھیاں عبور کر رہے ہیں۔ تمام شاگرد آپ کے گرویدہ ہیں آج آپ کی کاوشوں اور محنت کی بدولت وہ اپنا مقصد پانے میں کامیاب ہوئے۔ 

 آپ کو رب تعالی نے دو بیٹوں سے نوازا۔ ایک بیٹا این-ٹی-ڈی-سی واپڈا میں ہے،اور دوسرا میکینیکل انجیئنر ہے۔ 

آپ اب اسسٹنٹ ریٹائرڈ پرفیسر ہیں تربیلا واپڈا کالج سے،ریٹائیرمنٹ کے بعد مستقل آپ لاہور منتقل ہوگئیں ہیں۔ آپ کی محنت اور نیک نیتی کا صلہ اب تک مل رہا ہے۔ آپ کے اسٹوڈنٹس آپ کی عزت اور تعریف کیے بغیر تھکتے نہیں۔ ایک استاد کی  
کامیابی ہی یہی ہے کہ آج وہی شاگرد آپکو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔

SIDRA KHALID
ROLL#120
 بی ایس پارٹ ٹو سیکنڈ سیمسٹر 2015
Practical work carried under supervision of Sohail Sangi

---------------------------------FIRST VERSION ----------------------
پرو فیسر نسیم طارق
 Sidra Khalid  Profile 
علم ایک ایسی طاقت ہے جو گرے ہوۓ کو بھی کھڑا کرنے میں اہم کردار ادا
  کرتی ہے۔ جس کے پاس علم نہیں اس کی زندگی میں ترقی کے اتنے مواقع نہيں۔زندگی کے ہر موڑ پر تعليم ايک ڈھال کی طرح ہے۔جس نے اس سے استفادہ اٹھاليا اسی نے اپنا مقصد پا لیا۔ ایسے ہی تعلیم اور محنت سے آگے بڑھنے اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی ریٹاءرڈ اسسٹنٹ  پرو فیسر نسیم طارق۔ 1955ء سکھر میں پیدا ہوی۔ان کے خاندان میں عورتوں کی اعلی تعلیم کو اتنا فروغ  حاصل نہ تھا۔ میٹرک کے بعد آپ کو والدین نے گھر بٹھا دیا مگر پڑھنا اور آگے  بڑھنے کے جنون میں آپ  نے کسی کی نہ سنی اور والد صاحب سے ضد کر کے کالج میں داخلہ لیا۔ والد صاحب آپ کے معمولی پیشہ ورآدمی تھے آمدنی اتنی نہ تھی کہ دس افراد کا تعلیمی خرچہ اٹھا سکتے۔دو وقت کی روٹی میسر ہوجاتی کافی تھا۔ چونکہ آپ سب میں بڑی تھیں اور گھریلو حالات سے واقف تھیں تو آپ نے والد کے ساتھ مل کر کم عمری میں گھر کی ذمیداری اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ میٹرک کے بعد ہی آس پڑوس کے بچوں کو ٹیوشنز دیتی۔  اور ملنے والی رقم آدھی گھر میں دیتی بقایا پیسوں سے اپنی کتابیں اور فیسیں ادا کرتیں۔طرح طرح کی نوکریاں کیں۔ وہ غربت بھری زندگی سے نکلنا چاہتیں تھیں۔ وہ معاشرے میں عزت والا مقام چاہتی تھیں ۔ اپنا حال بدل کر مستقبل بہتر بنانا چاہتی تھیں۔ اور اس کے لیے آپ ںے دن رات ایک کردیے۔                                             ۔                                       کالج آپ نے اعلی نمبروں سے پاس کیا تو بی-ایڈ کرنے کے لیے اپلاۓ کردیا۔ اوریہیں سے ٹیچینگ کے سلسلے کا  آغاز ہوا۔                                                    بہن بھاہیوں کی تعلیم کا ذمہ آپ نے اٹھایا۔  آپ کا سوچنے کا انداز اپنے گھر والوں سے منفرد تھا۔ آپ ميں احساس  ذمیداری تھی، آگے بڑھنے کی لگن تھی۔ آپ ہی کی بدولت گھر کا نظام بدلہ۔اتنا کچھ کرنے کہ بعد آپکی امید اور برھتی گئ۔ آپ کو واپڈا اسکول میں بطور ٹیچر منتحب کیا۔ترقی کے سفر کا آغاز ہوا۔ اپنے پیشے کے ساتھ سنسئر رہی خوب محنت سے پڑھاتی اور آپ کے اسٹوڈنٹز کی بہترین کارگردگی کی وجہ سے اسکول انتظامیہ نے پرنسپل بنانے کے لیے منتخب کیا۔                                                             
آپ کے لیے یہ بے انتہا خوشی کی بات تھی۔ اپنی اسپیچ میں آپ  نے سب کو یہی کہا   " غریب ہونا میری قسمت میں تھا ، پر میرا مقدر نہیں۔ انسان خود زندگی سنوارتا اور بگاڑتا ہے۔ اور مجھے خود کو سنوارنا تھا" علم کے زیور سے۔                                                                                                          ماسٹرز ان ہسٹری کرنے کے بعد واپڈا کالج ،گڈو میں پروفیسر ہو گئیں۔ اس وقت آپ واحد عورت تھیں جنھیں جونئیر پروفیسر بنا گیا۔ آپ کے لیے یہ اعزاز کی بات تھی۔                                                      اپ نے بتایا کہ اتنی سفارشوں والوں میں میرا نام میرٹ پہ آنا۔۔۔۔ یہ سب میری محنت کا نتیجہ ہے جو میرے پروردگار نے مجھے نوازا ہے۔                      آپ جس گھرانے سے تعلق رکھتی ھیں وہاں عورتوں کا اس طرح مردوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کام کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا، مگر ایسے لوگ کبھی آگے نہیں بڑھتے جو زمانے کی پرواہ کریں۔ اسی سوچ اور روایت کو آپ نے بدلا ،
                                         آپ نے اپنی محنت جاری رکھی۔
آپ ہر ایک کے لیے ہمدرد رہیں چاہے اپ کے اپنے ہوں یا پراۓ ۔ آپ اپنے اصل سے  واقف ہیں،اسی محنت کی وجہ سے  آسمان کی بلندیاں بھی چھولی ، اور زمین پر اپنے جیسون کی مدد بھی کرنا  جاری رکھا۔
اسی اثناء میں آپ نے آپ نے ان طالبعلموں کو مفت تعلیم دی اور ان کے دیگر تعلیمی اخراجات بھی خود اٹھاۓ۔ آپ کو یہ ہر گز گوارہ نہ تھا کہ غربت جیسی مجبوری کے آگے کسی کے خواب نہ بکھر  جائیں۔ ان کے خوابوں کو پورا کرنے کی آپ نے  ہر وہ ممکن کوشش کی جو ایک استاد اپنے شاگروں کے لیے کرتا ہے۔
آج آپ ہی کے توسط سے بے شمار ہونہار طالبعلم ترقی کی سیڑھیاں عبور کر رہے ہیں۔ تمام شاگرد آپ کے گرویدہ ہیں آج آپ کی کاوشوں اور محنت کی بدولت وہ اپنا مقصد پانے میں کامیاب ہوۓ۔                                            آپ کو رب تعالی نے دو بیٹوں سے نوازا۔ ایک بیٹا آپ کا این-ٹی-ڈی-سی واپڈا میں ہے،اور دوسرا میکینیکل انجیئنر ہے۔ آپ کے بیٹے بھی اعلئ عہدوں پر فائز ہیں۔
آپ اب اسسٹنٹ ریٹائرڈ پرفیسر ہیں تربیلا واپڈا کالج سے،ریٹائیرمنٹ کے بعد مستقل آپ لاہور منتقل ہوگئیں ہیں۔
آپ کی محنت اور نیک نییتی کا صلہ اب تک ملرہا ہے۔ آپ کے اسٹوڈنٹس آپ کی عزت اور تعریف کیے بغیر تھکتے نہیں۔

ایک استاد کی کامیابی ہی یہی ہے کہ آج وہی شاگرد آپکو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔